ایک ہی کھانا کھا کر بھی کچھ لوگ اسمارٹ اور کچھ موٹے کیوں ہو جاتے ہیں؟
ہم اکثر اپنے آس پاس دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ جتنا مرضی کھا لیں، بالکل اسمارٹ رہتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ صرف تھوڑا بھی زیادہ کھا لیں تو ان کا وزن بڑھ جاتا ہے۔ یہ دیکھ کر اکثر غصہ بھی آتا ہے اور حیرت بھی ہوتی ہے۔ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس کا قصوروار صرف کھانا نہیں ہے، بلکہ ہر انسان کے جسم کا اپنا ایک اندرونی نظام ہوتا ہے جو بالکل الگ طریقے سے کام کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب دو لوگ ایک جیسا کھانا کھاتے ہیں، تو ان کا جسم اس کھانے کو ایک طرح سے استعمال نہیں کرتا۔
طبی ماہرین کے مطابق اگر ہم وزن بڑھنے کے اس کھیل کو نہ سمجھیں تو یہ موٹاپا آگے چل کر دل کی بیماریوں، شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ہمارے جسم کے اندر ایسی کون سی پانچ چھپی ہوئی طاقتیں ہیں جو وزن کو کنٹرول کرتی ہیں۔
روزمرہ کی عام حرکتیں
سب سے پہلی وجہ ہے ہماری روزمرہ کی وہ چھوٹی چھوٹی حرکتیں جنہیں ہم کوئی اہمیت ہی نہیں دیتے۔ جیسے گھر میں ادھر ادھر چلنا، کھڑے ہو کر بات کرنا، سیڑھیاں چڑھنا، یا بیٹھے بیٹھے ہاتھ پاؤں ہلانا۔ تحقیق بتاتی ہے کہ کچھ لوگ فطری طور پر دن بھر بہت زیادہ متحرک رہتے ہیں۔ وہ جم نہیں جاتے، لیکن ان کی یہ چھوٹی چھوٹی حرکتیں روزانہ سینکڑوں کیلوریز جلا دیتی ہیں۔ دوسری طرف، جو لوگ زیادہ تر بیٹھے رہتے ہیں، وہ اتنی ہی ورزش کے باوجود موٹاپے کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ہارمونز کا کردار
دوسرا بڑا کردار جسم کے ہارمونز کا ہوتا ہے، جو دماغ کو بھوک اور پیٹ بھرنے کا سگنل دیتے ہیں۔ ہمارے اندر دو اہم ہارمونز ہوتے ہیں: ایک وہ جو کہتا ہے کہ ”بس اب پیٹ بھر گیا، کھانا چھوڑ دو“ اور دوسرا وہ جو کہتا ہے کہ ”مجھے بہت بھوک لگی ہے، کچھ اور کھاؤ“۔ جن لوگوں کے جسم میں ان ہارمونز کا توازن بگڑ جاتا ہے، انہیں ہر وقت بھوک لگتی رہتی ہے اور وہ ضرورت سے زیادہ کھا لیتے ہیں، جس سے وزن بڑھ جاتا ہے۔
میٹابولزم
تیسری وجہ میٹابولزم ہے، یعنی جسم کی وہ بھٹی جو کھانے کو پگھلا کر طاقت میں بدلتی ہے۔ ہر انسان کے جسم کی یہ بھٹی الگ رفتار سے چلتی ہے۔ جن لوگوں کے جسم میں چربی کم اور پٹھے یعنی مسلز زیادہ ہوتے ہیں، ان کی بھٹی آرام کرتے ہوئے بھی کھانا جلاتی رہتی ہے۔ اسی لیے برابر وزن کے دو لوگوں کو زندہ رہنے کے لیے الگ الگ مقدار میں کھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
خاندانی اثرات
چوتھی چیز ہے ہمارے خاندانی جینز، جو ہمیں والدین سے ملتے ہیں۔ سائنسدانوں نے کچھ ایسے جینز ڈھونڈے ہیں جو انسان کی بھوک بڑھاتے ہیں اور جسم کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ چربی کو سنبھال کر رکھے۔ یہ جینز کسی انسان کی قسمت کا فیصلہ تو نہیں کرتے، لیکن یہ کچھ لوگوں کے لیے وزن کم کرنے کا سفر بہت مشکل بنا دیتے ہیں۔
پیٹ کے جراثیم
پانچویں وجہ ہمارے پیٹ میں موجود اربوں چھوٹے جراثیم ہیں، جنہیں معدے کی صحت کہا جاتا ہے۔ یہ جراثیم طے کرتے ہیں کہ جو کھانا ہم نے کھایا ہے، اس میں سے جسم کتنی چربی نچوڑے گا۔ اگر پیٹ کے جراثیم سست ہوں تو وزن تیزی سے بڑھتا ہے۔
نیند کی کمی اور وزن کا تعلق
آخری اور سب سے اہم وجہ نیند کی کمی ہے۔ جب ہم پوری نیند نہیں لیتے، تو ہمارا جسم ایسے ہارمونز بنانا شروع کر دیتا ہے جو ہمیں مٹھائیاں اور زیادہ کیلوریز والا کھانا کھانے پر مجبور کرتے ہیں۔ نیند پوری نہ ہونے سے جسم میں تھکن رہتی ہے اور انسان دن بھر سست پڑا رہتا ہے، جو وزن بڑھنے کی بڑی وجہ ہے۔
وزن کا بڑھنا صرف اس بات پر ختم نہیں ہوتا کہ آپ نے کتنا کھایا اور کتنی ورزش کی، بلکہ ہمارا میٹابولزم، جینز، ہارمونز، نیند اور پیٹ کی صحت، یہ سب مل کر طے کرتے ہیں کہ ہمارے جسم کا وزن کتنا ہوگا۔
اس لیے اگر کسی کا وزن زیادہ ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بہت لاپرواہ ہے، بلکہ اس کے جسم کا اندرونی نظام دوسروں سے مختلف ہے۔















