بجٹ برائے مالی سال 2026-27

.
شائع 15 جون 2026 04:06pm

وفاق اور صوبوں کے درمیان جاری گرما گرم بحث نے ان توقعات کو آسمان پر پہنچا دیا تھا کہ صوبے قومی وسائل کے قابلِ تقسیم پول (ڈیوزبل پول) میں اپنے سالانہ حصے کے اضافے سے وفاق کے حق میں دستبردار ہو جائیں گے لیکن مالی سال 27-2026 کے بجٹ نے ان تمام امیدوں پر ایسا پانی پھیرا کہ ٹی ایس ایلیٹ کی شہرہ آفاق نظم دی ہالو مین کا وہ مصرعہ یاد آ گیا کہ یہ سفر کسی دھماکے کے ساتھ نہیں بلکہ ایک دھیمی سسکی کے ساتھ تمام ہوا۔

ان توقعات کی توثیق بجٹ پارلیمنٹ میں پیش ہونے سے چند گھنٹے قبل وزیراعظم شہباز شریف کے اس وقت کے ٹیلی ویژن خطاب سے بھی ہوئی تھی جو انہوں نے کابینہ کی رسمی منظوری کے بعد کیا تھا۔ اس خطاب میں انہوں نے بجٹ کی کلیدی تجاویز پر وفاق کے ساتھ تعاون کرنے اور اتفاق کرنے پر اپنے بھائی (پارٹی قائد)، اپنی بھتیجی (وزیراعلیٰ پنجاب)، پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ ساتھ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کی تعریف کی تھی۔ تاہم وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے یہ اعلان کہ اس اقدام کو اگلے سال تک کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے، یہ سوالات اٹھاتا ہے کہ کیا وہ آئندہ سال اس وعدے کو پورا کر پائیں گے جبکہ وہ موجودہ بجٹ کے دیگر امور پر بھی اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں واضح طور پر ناکام رہے، جس کے لیے ہائبرڈ حکومت کی مداخلت اور وزیراعظم کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ 30 سے 40 منٹ طویل گفتگو کی ضرورت پڑی۔

اس کے باوجود بجٹ میں موجودہ سال کے دوران صوبوں سے تقریباً ایک ٹریلین روپے اضافی حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، ایسا اضافہ جس کی معاشی نقطہ نظر سے حمایت نہیں کی جا سکتی۔ صوبائی سرپلس کو 1379 ارب روپے (2025-26 کے ترمیمی تخمینے) سے بڑھا کر 2026-27 میں 1794 ارب روپے کرنا شامل ہے، جس سے وفاق کے لیے 415 ارب روپے کا اضافی ریونیو پیدا ہوگا۔ اس کے علاوہ صوبوں کے ترقیاتی بجٹ کی رقم کو گزشتہ سال کے 2.869 ٹریلین روپے سے کم کرکے اگلے سال کے لیے 2.224 ٹریلین روپے کر دیا گیا ہے، جس سے مزید 649 ارب روپے وفاق کے کھاتے میں چلے جائیں گے۔یہاں دو مشاہدات اہم ہیں۔اول یہ کہ وفاق اس رقم کو اپنے جاری غیر ترقیاتی اخراجات پر خرچ کرے گا، جو گزشتہ سال کی طرح بجٹ 2026-27 کا 93 فیصد بنتے ہیں اور یہ عمل ترقی مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں اضافے کا باعث بھی بنتا ہے کیونکہ اس کے پیچھے پیداوار میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ دوم یہ اقدام اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی (ڈیولوشن) کی جانب پیش رفت کو مزید سست کر دے گا، جو کہ مقامی برادریوں کی ضروریات کو پورا کرنے والی پالیسی ہے۔ اس کے بجائے وفاق حکومت کے اگلے درجے یعنی صوبوں سے منصوبوں کے فیصلے کرنے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لے گا، اگرچہ یہ مانا جا سکتا ہے کہ جو پارٹی سیاسی طور پر جتنی مضبوط ہوگی وفاق اس کے مخصوص منصوبوں کے مطالبات پر اتنی ہی زیادہ توجہ دے گا۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ بجٹ پچھلے بجٹوں سے کچھ مختلف ہے؟ یہاں پانچ ایسے اہم نکات ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ بجٹ میں بہت کم تبدیلی آئی ہے۔ پہلا یہ کہ بیرونی قرضوں پر انحصار اگلے سال بڑھ کر 23.3 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا (290 روپے فی ڈالر کے حساب سے)، جبکہ رخصت ہونے والے سال کے لیے یہ ہدف 19.9 ارب ڈالر تھا، لیکن آخری گنتی تک 2025-26 میں صرف 11.068 ارب ڈالر ہی حاصل ہو سکے، یہ ایک ایسی آمد ہے جو یقیناً حکومت کے لیے تشویش کا باعث ہونی چاہیے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وزیرِ خزانہ نے بجٹ پیش کرنے سے ایک دن قبل اقتصادی سروے جاری کرتے ہوئے کمرشل قرضوں تک رسائی بڑھانے، پانڈا بانڈز (جس میں سے صرف 250 ملین ڈالر کے مساوی بانڈز جاری کیے گئے ہیں) اور دیگر ڈیٹ ایکویٹی آلات جیسے سکوک اور یورو بانڈز کے اجراء پر بہت زیادہ زور دیا۔ مقامی قرضوں اور مارک اپ سمیت کل قرضہ اگلے سال 16 فیصد بڑھنے کا تخمینہ ہے، جو کہ ترمیمی تخمینوں کے 6.9 ٹریلین روپے سے بڑھ کراگلے سال 8.05 ٹریلین روپے ہو جائے گا۔ مذکورہ بالا قرضوں کے اعداد و شمار میں شامل نہیں لیکن بہرحال ایک قرض ہی ہے، وہ متوقع گارنٹی شدہ قرضہ ہے جو 30 جون 2025 کو عارضی واجبات کے اجراء کے لیے گزشتہ سال کے بجٹ میں 3.950 ٹریلین روپے تخمینہ لگایا گیا تھا جو بجٹ 2026-27 کی دستاویزات کے مطابق 372 ارب روپے کم دکھایا گیا تھا۔ 30 جون 2027 تک اس میں متوقع اضافہ 5.005 ٹریلین روپے یا 16 فیصد ہے۔

دوسرا یہ کہ جاری اخراجات کے تمام اجزاء میں اضافہ کیا گیا جو اشرافیہ کی اس نااہلی کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اصلاحات کے ذریعے اخراجات کم کرنے میں ناکام رہی۔ پنشن کے لیے اگلے سال 1.16 ٹریلین روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ رخصت ہونے والے سال میں یہ رقم 1.05 ٹریلین روپے تھی، اگرچہ دستاویزات میں ظاہری طور پر 10 ارب روپے کے پنشن فنڈ کا ذکر ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا یہ فنڈ ٹیکس دہندگان کے خرچے پر قائم کیا گیا ہے یا یہ گزشتہ سال اعلانیہ پالیسی کا نتیجہ ہے، جس کے تحت صرف نئے ملازمین کے لیے حصہ داری لازمی قرار دی گئی تھی۔ دفاعی بجٹ میں بھی 412 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا، حالانکہ اس کا بڑا حصہ دہشت گردانہ حملوں میں تیزی کے باعث آپریشنل اخراجات کے لیے ہے (اور یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ بھی اس میں شامل ہے)۔تیسرا یہ کہ ترقیاتی بجٹ کا حجم 2026-27 میں ایک ٹریلین روپے پر برقرار رکھا گیا ہے، جو کہ 2025-26 میں مختص کردہ رقم کے برابر ہی ہے۔ تاہم رخصت ہونے والے سال میں وزارتِ خزانہ کی جانب سے اصل ادائیگی اب تک 50 فیصد سے بھی کم رہی ہے۔ یہ الاٹمنٹس مسلم لیگ (ن) کے اس پرانے فلسفے کی عکاس ہیں کہ بڑے انفرااسٹرکچر منصوبے ترقی کے ساتھ ساتھ پارٹی کی مقبولیت کو بھی بڑھائیں گے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس بار بھی توجہ پانی کے ذخائر کے بجائے سڑکوں پر ہی رہی، حالانکہ ملک اب پانی کی شدید قلت کا شکار ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔

چوتھا یہ کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں 17.5 فیصد اضافے کے ساتھ 15.26 ٹریلین روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، مالی سال 2025-26 کے لیے ایف بی آر کا ہدف 14 ٹریلین روپے تھا جسے بعد میں کم کرکے 12.9 ٹریلین روپے کیا گیا (اگرچہ ایف بی آر کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ شارٹ فال اب بھی 800 ارب روپے سے زیادہ ہو سکتا ہے)۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک اور بجٹ میں ٹیکس کا ہدف غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ مزید برآں سرکاری ریونیو کا بڑا حصہ سیلز ٹیکس سے حاصل ہونا ہے جس کا بوجھ امیروں کے مقابلے غریبوں پر زیادہ پڑتا ہے۔ اس میں 4.9 ٹریلین روپے سیلز ٹیکس کی مد میں شامل ہیں اور مزید 5.3 ٹریلین روپے ودہولڈنگ ٹیکسز سے آئیں گے جو سیلز ٹیکس کے موڈ میں لگائے جاتے ہیں لیکن انہیں انکم ٹیکس کے کھاتے میں کریڈٹ کیا جاتا ہے (یہ ایک ایسی پریکٹس ہے جس سے ایف بی آر آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی تنبیہ کے باوجود باز نہیں آتا) اور پیٹرولیم لیوی کو ایف بی آر کے دائرہ اختیار سے باہر رکھا گیا ہے، تاکہ یہ قابلِ تقسیم پول کا حصہ نہ بنے اور صوبوں کے ساتھ شیئر نہ کرنا پڑے، جس سے اگلے مالی سال میں 1.67 ٹریلین روپے پیدا کرنے کا ہدف ہے۔ نتیجے کے طور پر سیلز ٹیکس کے ان تین ذرائع سے عوام پر بوجھ اگلے سال 11.8 ٹریلین روپے ہوگا، ایک ایسا حقیقت پسندانہ منظرنامہ جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے مختص 838 ارب روپے کی رقم کی افادیت کو کمزور کرتا ہے، خاص طور پر جب کیلوریز کی مقدار کے حساب سے ملک میں غربت کی شرح 44 فیصد ہو۔

اور آخر میں آئی ایم ایف کی سخت اور پیشگی شرائط کی وجہ سے نافذ العمل شدید سکڑاؤ والی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں کے پیشِ نظر اگلے سال کی 4 فیصد معاشی ترقی (گروتھ) کے ہدف پر نظرثانی کر کے اسے کم کرنا پڑ سکتا ہے اور سالانہ بجٹ اسٹیٹمنٹ 2026-27 کے الفاظ میں حقیقی جی ڈی پی گروتھ میں ایک فیصد کی کمی ٹیکس وصولیوں میں کمی کے ذریعے سرکاری ریونیو کو کم کر سکتی ہے، جبکہ اخراجات کے دباؤ کو بھی بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر سوشل سیفٹی نیٹ ورک پر۔


نوٹ: یہ تحریر 15 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔