وفاقی کابینہ میں تبدیلیوں کا امکان: داخلہ، خزانہ اور دفاع سمیت اہم وزارتوں میں ردوبدل متوقع
وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے تحت وزارت داخلہ، خزانہ، بحری امور اور دفاع سمیت کئی اہم وزارتوں میں تبدیلی زیر غور ہے جب کہ کابینہ کا حجم کم کرنے کے لیے بعض وزارتوں کو ضم کرنے اور کچھ وزرائے مملکت کو فارغ کرنے کی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ میں متوقع رد و بدل کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور جاری ہے اور اس سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کے درمیان مشاورت کا عمل جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو وزارت خزانہ کا قلمدان سونپے جانے کا امکان ہے جب کہ وہ ڈپٹی وزیراعظم کے عہدے پر بھی برقرار رہیں گے۔
اسی طرح وزارت خارجہ کے لیے محسن نقوی کو مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا ہے جب کہ وزارت داخلہ کے لیے رانا ثنا اللہ اور اعظم نذیر تارڑ کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
ذرائع کے مطابق کابینہ کا حجم کم کرنے کے لیے بعض وزارتوں اور ڈویژنز کو ختم یا ضم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے جب کہ وزارتوں اور ڈویژنز کی تعداد 32 تک محدود کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت بحری امور کو وزارت دفاع میں ضم کرنے کی تجویز زیر غور ہے تاکہ انتظامی امور کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ غیر اہم وزارتوں سے بعض وزرائے مملکت کو فارغ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے جب کہ کابینہ کے مجموعی حجم کو کم کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق کابینہ میں متوقع تبدیلیوں اور وزارتوں کی نئی تقسیم سے متعلق مشاورت ابھی جاری ہے اور حتمی فیصلے اعلیٰ سطحی مشاورت مکمل ہونے کے بعد کیے جائیں گے۔
















