میناب اسکول پر قیامت خیز حملے کا ذمہ دار کون؟ امریکی صدر کا حیران کن بیان سامنے آگیا

ایران کے میناب اسکول پر ہونے والے کروز میزائل حملے میں بڑی تعداد میں معصوم بچے مارے گئے تھے۔
شائع 25 جون 2026 09:06am

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے پہلے ہی دن، یعنی 28 فروری کو جنوبی ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پر ہونے والے ہولناک حملے کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بڑا بیان دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شاید کبھی یہ معلوم ہی نہ ہو سکے کہ اس قیامت خیز واقعے کا اصل قصوروار کون تھا۔

ایران کے میناب اسکول پر ہونے والے کروز میزائل حملے میں بڑی تعداد میں معصوم بچے مارے گئے تھے۔ ایران کے مطابق شہید بچوں کی تعداد 168 ہے، اور اسی مناسبت سے ایران نے اپنے سرکاری طیارے ’میراج‘ کو ’میناب 168‘ کا نام بھی دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے مارچ میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فوج کی ابتدائی اندرونی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ اس خونی حملے کی ذمہ دار ممکنہ طور پر خود امریکی فوج ہی تھی۔

اس رپورٹ کے بعد امریکی محکمہ دفاع یعنی پینٹاگون نے اس معاملے کی تحقیقات کو بڑے پیمانے پر شروع تو کر دیا ہے، لیکن ابھی تک باضابطہ طور پر اپنی کسی غلطی یا ابتدائی نتیجے کو تسلیم نہیں کیا۔

واشنگٹن میں میڈیا سے بات چیت کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ”میں نہیں جانتا کہ وہ (پینٹاگون) کبھی اس مسئلے کو حل کر پائیں گے یا نہیں۔ میں نہیں جانتا کہ قصور کس کا تھا، کیونکہ اس وقت ہر طرف میزائل اڑ رہے تھے، اور جو کچھ بھی ہوا وہ بہت ہی ہولناک تھا لیکن اس وقت چاروں طرف میزائلوں کی برسات ہو رہی تھی۔“

جب صحافیوں نے ان سے امریکی فوج کے ملوث ہونے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ ”کسی نے کہا تھا کہ یہ ہمارا میزائل تھا، شاید وہ ہمارا میزائل نہیں تھا، لیکن میں نے ابھی تک ایسا کچھ نہیں دیکھا جس سے مجھے یہ یقین ہو کہ وہ ہمارا ہی کام تھا۔ میرا نہیں خیال کہ یہ ہم نے کیا تھا۔“

دوسری طرف اس معاملے سے جڑے کچھ باخبر ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ یہ دلدوز حادثہ شاید اس لیے ہوا کیونکہ امریکی فوج نے حملے کے لیے کسی پرانی معلومات یا پرانے نقشے کا استعمال کیا تھا، جس کی وجہ سے نشانہ چوک گیا۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق کسی بھی اسکول پر جان بوجھ کر حملہ کرنا ایک بہت بڑا جنگی جرم مانا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکی حکام عوامی سطح پر مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ واشنگٹن کبھی بھی جان بوجھ کر کسی اسکول کو نشانہ نہیں بنا سکتا۔

اس واقعے پر پوری دنیا میں شدید غصہ پایا جاتا ہے اور اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے اسے انتہائی ہولناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ قرار دیا تھا۔

جنگ کے شروع میں صدر ٹرمپ نے بغیر کسی ثبوت کے یہ دعویٰ کر دیا تھا کہ اس تباہی کا ذمہ دار خود ایران ہے، لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے، اس کی تفتیش ابھی چل رہی ہے اور وہ جو بھی نتیجہ نکلے گا اسے قبول کریں گے۔

انہوں نے یہ بھی اصرار کیا کہ کسی نے بھی جان بوجھ کر اسکول پر حملہ نہیں کیا تھا۔