ایرانی بیمار ذہنیت کے لوگ ہیں، گزشتہ رات ایران پر بدترین بمباری کی: صدر ٹرمپ

ایران اور امریکا کے درمیان تازہ حملوں کے باوجود آبنائے ہرمز تجارتی آمدورفت کے لیے کھلی ہے: امریکی صدر
شائع 12 جولائ 2026 09:01pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے ہے کہ وہ بیمار ذہنیت کے لوگ ہیں، گزشتہ رات ایران پر بدترین بمباری کی، حملوں سے قبل ایران نے ڈیل پر رضا مندی ظاہر کی، ایٹمی پروگرام سے دستبرداری پر بھی اتفاق کیا مگر کمرے سے نکلنے کے ایک گھنٹے بعد جہاز پر ڈرون حملہ کردیا۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ تازہ حملوں اور کشیدگی کے باوجود تیل کی ترسیل کے اسٹریٹجک روٹ ’آبنائے ہرمز‘ سے تجارتی آمدورفت تاحال جاری ہے۔

اتوار کے روز امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کے پروگرام ”میٹ دی پریس“ اور سی این این کے پروگرام ”اسٹیٹ آف دی یونین“ میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے گزشتہ رات ایران کے خلاف بھرپور فوجی کارروائی کی۔

صدر ٹرمپ نے کہا ”ہم نے گزشتہ رات ایران پر بہت سخت حملہ کیا، ان لوگوں کے ساتھ کوئی نہ کوئی مسئلہ ضرور ہے، کل تک وہ ہر چیز چھوڑنے پر تیار تھے لیکن ایک گھنٹے بعد ہی انہوں نے ایک تجارتی جہاز پر ڈرون حملہ کر دیا۔“

امریکی صدر نے ایرانی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت بیمار ذہنیت کے لوگ ہیں، انہوں نے کل ایک  معاہدے پر اتفاق کیا، جو ہمارے لیے ایک بہترین معاہدہ تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ روز ایک ایسا معاہدہ طے پایا تھا جو ان کے بقول ”ہمارے لیے ایک مکمل معاہدہ“ تھا اور ایران تقریباً تمام شرائط ماننے پر آمادہ ہو گیا تھا تاہم اس کے کچھ ہی دیر بعد ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز کو مبینہ طور پر ڈرون سے نشانہ بنایا۔

امریکی فوج کے مطابق ایران کے خلاف تازہ کارروائی میں 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی جانب سے تجارتی جہاز پر مبینہ ڈرون حملے کے جواب میں کیے گئے جب کہ ایک ہفتے کے دوران یہ ایران کے خلاف امریکی فوج کی تیسری بڑی کارروائی ہے۔

آبنائے ہرمز کی صورت حال پر امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ”جہاں تک ہمارا تعلق ہے، آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے۔“ ان کے مطابق ایران کی جانب سے بندش کے اعلان کے باوجود تجارتی بحری جہاز معمول کے مطابق اس اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے گزر رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز تمام ان بحری جہازوں کے لیے کھلی ہے جو قانونی طور پر بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے گزرنا چاہتے ہیں۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج خطے میں مکمل طور پر تعینات اور تیار ہیں تاکہ ایران کی مبینہ دھمکیوں، ہراسانی، جارحانہ اقدامات اور یکطرفہ اعلانات کے باوجود بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنایا جا سکے۔ امریکی فوج کا مزید کہنا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول نہیں رکھتا اور بحری ٹریفک معمول کے مطابق جاری ہے۔

اس سے قبل امریکی بحریہ کے زیر نگرانی کام کرنے والے جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر (جے ایم آئی سی) نے بھی کہا تھا کہ عمان کے ساحل کے ساتھ واقع جنوبی بحری راستہ دونوں سمتوں میں آمدورفت کے لیے دستیاب ہے تاہم آبنائے ہرمز میں سکیورٹی خطرات کی سطح بدستور انتہائی سنگین ہے۔

ایران کا مؤقف

ادھر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے نئے نظام کی نگرانی کرنے والی ایرانی اتھارٹی نے امریکی دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت ممکن نہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق خطے میں امریکی فوج کی حالیہ ”غیر قانونی نقل و حرکت“ کے باعث فی الحال کسی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ بیان میں کہا گیا کہ جیسے ہی خطے میں استحکام اور حالات معمول پر آئیں گے، بحری آمدورفت سے متعلق تمام درخواستوں کا مقررہ طریقہ کار کے مطابق جائزہ لیا جائے گا اور ضروری اجازت نامے جاری کیے جائیں گے۔

ایرانی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ٹرانزٹ پرمٹ صرف ان کے مقررہ نظام کے تحت جاری کیے جائیں گے۔

امریکا اور ایران کے متضاد دعووں کے باعث آبنائے ہرمز کی صورت حال بدستور غیر یقینی ہے جب کہ یہ اہم آبی گزرگاہ عالمی تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے اور اس میں پیدا ہونے والی کشیدگی عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔