سعودی اتحاد کا یمن میں حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں پر حملے کا دعویٰ

حدیدہ بندرگاہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا، تمام بندرگاہیں کھلی ہیں، سعودی
شائع 25 جولائ 2026 09:09am
Saudi Coalition | Yemen | Houthi Positions | Al Hudaydah - Aaj News

سعودی اتحادی افواج نے یمن کے الحدیدہ گورنریٹ میں حوثیوں کے خلاف کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے میں حوثیوں سے منسلک فوجی ٹھکانوں اور عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

اتحادی افواج کے جاری کردہ بیان کے مطابق کارروائی کا مقصد بحیرہ احمر میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کا خاتمہ تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ حملے کے دوران الحدیدہ بندرگاہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور تمام بندرگاہیں معمول کے مطابق جہاز رانی کے لیے کھلی ہیں۔

سعودی اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ اگر حوثیوں کی جارحانہ کارروائیاں جاری رہیں تو ان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ کارروائی صرف فوجی اہداف تک محدود تھی اور اس کا مقصد خطے میں بحری سلامتی کو یقینی بنانا تھا۔

اس سے قبل حوثیوں سے وابستہ میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب نے یمن کے الحدیدہ گورنریٹ اور جزیرۂ کمران پر فضائی حملے کیے ہیں، تاہم سعودی اتحادی افواج نے اپنی وضاحت میں کہا کہ کارروائی حوثی فوجی تنصیبات کے خلاف کی گئی۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق حوثی حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ الحدیدہ کو نشانہ بنا کر سعودی حکومت نے آئندہ مرحلے کے لیے جیسے کو تیسا کی پالیسی اختیار کر لی ہے۔

حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ کے مطابق حملوں میں الحدیدہ میں ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ جزیرہ کمران پر بھی فضائی حملے کیے گئے۔ چینل کا کہنا تھا کہ جزیرہ کمران پر ہونے والے حملے میں کم از کم ایک خاتون زخمی ہوئی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ الحدیدہ بندرگاہ کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج نے بندرگاہ کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی صرف حوثیوں سے منسلک فوجی اہداف کے خلاف کی گئی۔

الحدیدہ یمن کا ایک اہم ساحلی شہر ہے اور اس کی بندرگاہ حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں کے لیے خوراک، ادویات اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کا مرکزی راستہ سمجھی جاتی ہے۔

یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کشیدگی کا ذمہ دار حوثیوں کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ بحیرہ احمر میں جہازوں پر حوثیوں کے حملے بزدلانہ اور غیر ذمہ دارانہ ہیں۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل یمن کی حوثی اکثریتی جماعت انصار اللہ نے سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔