کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں وائرل ہونے والی 'آر اے ایف' افسر کون ہیں؟

تصاویر اور انٹرویو کے چھوٹے چھوٹے حصے وائرل ہونے کی وجہ سے وہ اس پورے مظاہرے کا ایک سب سے نمایاں چہرہ بن کر سامنے آ گئی ہیں۔
شائع 26 جولائ 2026 10:36am

بھارت میں امتحانی اصلاحات کے مطالبے پر جاری طلبہ احتجاج کے دوران ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کی اسسٹنٹ کمانڈنٹ سونیا سہراوت اچانک سوشل میڈیا اور خبروں کا اہم موضوع بن گئی ہیں۔ ایک وائرل انسٹاگرام پوسٹ، زخمی حالت میں دیا گیا انٹرویو اور سوشل میڈیا پر ان کی سرگرمیوں نے انہیں آن لائن بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔

ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی میں امتحانات کے نظام میں تبدیلیوں کے لیے طلبہ کی جانب سے مظاہرے کیے جا رہے تھے۔ 20 جولائی کو جب طلبہ پارلیمنٹ کی طرف مارچ کر رہے تھے تو وہاں سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہو گئی۔

اس تصادم کے دوران ریپڈ ایکشن فورس کی اسسٹنٹ کمانڈنٹ سونیا سہراوت بھی تعینات تھیں اور وہ اس ہنگامے میں زخمی ہو گئیں جس کی وجہ سے ان کے ہاتھ میں فریکچر آ گیا۔

سونیا سہراوت کوئی عام افسر نہیں ہیں بلکہ وہ سوشل میڈیا پر پہلے ہی کافی مشہور ہیں اور ان کے انسٹاگرام پر چھ لاکھ سے زیادہ فالوورز موجود ہیں۔ تاہم اس احتجاج کے بعد وہ ایک بڑے تنازع کی زد میں آ گئیں۔

ان کے اکاؤنٹ سے ایک انسٹاگرام اسٹوری پوسٹ کی گئی جس میں ایک مرے ہوئے کاکروچ کی تصویر لگی ہوئی تھی۔ اس تصویر کے ساتھ لکھا گیا تھا کہ جو لوگ خود کو ٹھیک نہیں کر سکتے وہ ملک کو کیا ٹھیک کریں گے۔ بعد میں اس پوسٹ کو ہٹا دیا گیا لیکن اس کا اسکرین شاٹ وائرل ہو گیا۔

سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس پوسٹ پر شدید تنقید کی اور کہا کہ یہ احتجاج کرنے والی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی کا مذاق اڑانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ اس بات پر انٹرنیٹ پر ایک نئی بحث چھڑ گئی کہ کیا سرکاری ملازمت اور یونیفارم پہننے والے اہلکاروں کو اس طرح کسی سیاسی یا عوامی احتجاج پر اپنی ذاتی رائے دینی چاہیے۔

اس کے بعد لوگوں نے سونیا سہراوت کے پرانے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی چھان بین شروع کر دی۔ صارفین نے نشاندہی کی کہ ڈیوٹی پر آنے سے محض پانچ دن پہلے وہ گوا میں چھٹیاں منا رہی تھیں اور وہاں کی تصاویر شیئر کر رہی تھیں۔ جب وہ اپنے ہاتھ پر پٹی باندھے ایک انٹرویو میں آئیں تو وہ ویڈیو بھی تیزی سے پھیل گئی۔

اس دوران صارفین نے سونیا سہروات کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کا بھی جائزہ لینا شروع کر دیا۔ کئی افراد نے نشاندہی کی کہ احتجاج سے چند روز قبل وہ گوا میں تعطیلات گزار رہی تھیں اور اس حوالے سے تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کر رہی تھیں۔ اگرچہ اس میں کسی ضابطے کی خلاف ورزی ثابت نہیں ہوئی، لیکن یہ معاملہ بھی آن لائن بحث کا حصہ بن گیا۔

بعد ازاں سونیا سہراوت نے ایک انٹرویو میں زخمی ہاتھ کے ساتھ شرکت کی، جس کی ویڈیو تیزی سے وائرل ہو گئی۔ انٹرویو کے دوران ان سے وردی پر نام کی تختی (نیم ٹیگ) نہ لگانے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ اس پر انہوں نے جواب دیا، ”گرمی اور تکلیف کی وجہ سے میں نے نام کی تختی اتار دی تھی۔“

ان کے اس بیان پر بھی سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آئیں۔ کچھ صارفین نے اسے ایک سادہ وضاحت قرار دیا، جبکہ بعض نے سوال اٹھایا کہ آیا یونیفارم کے قواعد کی پابندی ہر حال میں ضروری نہیں ہونی چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کس تیزی سے کسی بھی واقعے کو قومی بحث کا موضوع بنا سکتا ہے۔ اس بار احتجاج صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہا بلکہ انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز بھی اس کا اہم حصہ بن گئے۔

سونیا سہروات، جو پہلے اپنی فٹنس اور پیشہ ورانہ شناخت کے باعث سوشل میڈیا پر معروف تھیں۔ اب طلبہ احتجاج سے جڑے سب سے زیادہ زیر بحث چہروں میں شامل ہو گئی ہیں۔ سونیا سہراوت کی تصاویر اور انٹرویو کے چھوٹے چھوٹے حصے وائرل ہونے کی وجہ سے وہ اس پورے مظاہرے کا ایک سب سے نمایاں چہرہ بن کر سامنے آ گئی ہیں۔

اب تک سونیا سہروات یا متعلقہ حکام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بحث بدستور جاری ہے۔