ایران کو اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے نتائج بھگتنا ہوں گے: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر مبینہ ایرانی میزائل حملے کا سخت جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے رات بھر ہونے والے حملوں میں داغے گئے متعدد بیلسٹک میزائلوں کو کامیابی سے تباہ کیا جب کہ عراق میں امریکی اور سعودی افواج کے مشترکہ حملوں کے بعد بغداد اور تہران کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اردن میں موجود امریکی افواج پر مبینہ ایرانی میزائل حملے کا بھرپور جواب دے گا۔
فاکس نیوز کے نمائندے ٹری ینگسٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ان سے ٹیلی فونک انٹرویو کے دوران سخت الفاظ میں ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو اس حملے کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکی فوج کو اس حملے کو روکنے کے لیے صرف چند ہی منٹ ملے، تاہم انہوں نے آنے والے تمام بیلسٹک میزائل کامیابی سے روک کر اس حملے کو ناکام بنایا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عراق میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے خلاف رات گئے کیے گئے فضائی حملے امریکی اور سعودی افواج نے عراقی حکومت کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے بعد انجام دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف مزید اقدامات پر بھی غور کر رہا ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بدھ کی شب ایران نے اردن میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی جس کے کچھ ہی دیر بعد امریکا اور سعودی عرب نے عراق میں ایران نواز گروہوں پر مشترکہ حملے کیے تھے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بدھ کی صبح جاری بیان میں کہا کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج پر اچانک حملہ کرتے ہوئے متعدد بیلسٹک میزائل داغے، تاہم امریکی دفاعی نظام نے تمام میزائل کامیابی سے فضا ہی میں تباہ کر دیے۔
بعد ازاں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اردن میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایک مرکز کو بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنانے کی تصدیق کی۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ کارروائی خطے میں ایرانی مفادات کے خلاف امریکی اقدامات کے جواب میں کی گئی۔
بدھ کے روز امریکی اور سعودی افواج کے عراق میں مشترکہ فضائی حملوں میں کم از کم 20 افراد ہلاک جب کہ 32 زخمی ہوئے ہیں۔
عراق کی مسلح تنظیموں کے اتحاد پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اور سعودی فورسز نے ملک کے سات مختلف صوبوں میں مشترکہ فضائی حملے کیے، جن میں بغداد، واسط، نینویٰ، بصرہ، کرکوک، کربلا اور دیالہ شامل ہیں۔
سعودی وزارتِ دفاع اور امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیانات میں اس مشترکہ کارروائی کو سعودی عرب کی اہم تیل تنصیبات اور امریکی افواج کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا ردعمل قرار دیا گیا ہے۔
عراقی صدر نزار عامدی نے ان حملوں کو عراق کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے جب کہ ان حملوں کے بعد عراقی وزیراعظم کا طے شدہ سعودی عرب کا دورہ بھی مؤخر کر دیا گیا ہے۔
عراقی صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے عراق کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ بیان کے مطابق ان حملوں میں عراق کے سرکاری سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے منافی ہے۔
واضح رہے کہ پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) عراق میں سرگرم مختلف نیم عسکری گروہوں کا اتحاد ہے۔ 2014 میں جب آئی ایس آئی ایس (داعش) نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضے کے بعد بغداد کی جانب پیش قدمی شروع کی تو چھوٹے عسکری گروپوں نے مل کر ’پی ایم ایف‘ کی بنیاد رکھی تھی۔
پی ایم ایف میں تقریباً 50 سے 70 کے قریب عسکری دھڑے شامل ہیں اور اس کے فعال جنگجوؤں کی تعداد 2 لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے، جو داعش کو شکست دینے میں عراقی فوج کے شانہ بشانہ لڑتے رہے۔
اسی بنا پر عراقی پارلیمنٹ نے نومبر 2016 میں باقاعدہ قانون پاس کر کے ’پی ایم ایف‘ کو عراقی مسلح افواج کا باقاعدہ حصہ تسلیم کیا تھا۔ یہ فورس وزارتِ دفاع یا وزارتِ داخلہ کے بجائے براہِ راست عراقی وزیر اعظم کو رپورٹ کرتی ہے اور انہیں بجٹ سے ہی تنخواہیں اور مراعات بھی دی جاتی ہیں۔
پی ایم ایف میں شامل چند دھڑے جن میں ایک ’اسلامک ریزسٹنس اِن عراق‘ بھی ہے، پر ایران نواز ملیشیا ہونے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ نے بھی عراق میں امریکی اور سعودی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں عراق کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملہ اور جارحیت قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور ان کا مقصد امریکا اور اسرائیل کی جانب سے خطے میں جنگ کا دائرہ مزید وسیع کرنا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق عراق کے حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی کا جمعرات کو سعودی عرب کا سرکاری دورہ بھی مؤخر ہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق عراقی وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب میں دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط، سیکیورٹی تعاون اور خطے کی تازہ صورت حال پر بات چیت متوقع تھی، تاہم عراق میں امریکی اور سعودی مشترکہ فوجی کارروائی کے بعد فی الحال اس دورے کو مؤخر کردیا گیا ہے۔












