لاہور: ایوانِ عدل کے باہر احتجاج کے دوران پولیس کا آج نیوز کے رپورٹر پر بدترین تشدد

پولیس اہلکاروں نے ناطق ریحان کو حراست میں لے کر قیدیوں کی وین میں بند کر دیا، صحافتی تنظیموں کی مداخلت پر چھوڑ دیا گیا۔
اپ ڈیٹ 05 اگست 2026 05:30pm
Journalists Protest After Aaj News Reporter Briefly Detained in Lahor

لاہور میں ایوانِ عدل کے باہر پی ٹی آئی وکلا کے احتجاج کی کوریج کے دوران صحافی پولیس گردی کا شکار ہو گیا۔ پولیس اہلکاروں نے آج نیوز کے کورٹ رپورٹر ناطق ریحان کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور فرائض کی انجام دہی سے روکتے ہوئے حراست میں لے کر قیدیوں کی وین میں بند کر دیا۔

بدھ کے روز لاہور میں ایوانِ عدل کے باہر ناطق ریحان صحافتی فرائض سرانجام دے رہے تھے کہ پولیس اہلکاروں نے انہیں پکڑ لیا۔ تھپڑوں اور لاٹھیوں کی بارش کر دی۔ پولیس اہلکاروں نے ان سے موبائل فون بھی چھین لیا اور قیدیوں کی وین میں بند کر دیا۔

ناطق ریحان کا کہنا ہے کہ کوریج کر رہا تھا، دس پندرہ پولیس اہلکار آئے اور تشدد شروع کر دیا۔

کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن اور پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ سمیت صحافتی تنظیموں نے واقعے کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے تشدد کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہونے کی صورت میں سخت احتجاج کیا جائے گا۔

صحافتی تنظیموں کی مداخلت پر آدھا گھنٹہ حراست میں رکھنے پر چھوڑ دیا گیا۔

آج نیوز کے رپورٹر ناطق ریحان پر پولیس کے بہیمانہ تشدد کے بعد صحافتی تنظیموں کی جانب سے واقعے کی شدید مذمت کی جارہی ہے وہی سینئر اینکر پرسن حامد میر نے بھی واقعے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب پولیس کو بتایا بھی گیا یہ صحافی ہے اس کو مت مارو لیکن انہوں نے ایک نہ سنی اور سرعام ایک صحافی کے ساتھ مارپیٹ کر کے قیدیوں کی وین میں صحافی کو بند کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک پیغام تھا جو سب صحافیوں کو دینا تھا، پیغام دینے کے بعد اس صحافی کو چھوڑ دیا، اب سب صحافی انتظار کریں اگلی باری کس کی ہے؟