ہماری تحمل کی پالیسی کوکمزوری سمجھنا خود بھارت کیلئے خطرہ ہے،جنرل راحیل

اپ ڈیٹ 29 نومبر 2016 10:26am
فائل فوٹو فائل فوٹو

راولپنڈی:سابق آرمی چیف نے کہا ہے کہ  ہماری تحمل کی پالیسی کوکمزوری سمجھنا خود بھارت کیلئے خطرہ ہے،مسئلہ کشمیر کا حل خطے کے امن کیلئے ضروری ہے۔

سابق آرمی چیف راحیل شریف نے آرمی چیف گراؤنڈ پہنچے اور گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا ،سبکدوش ہونے والے نشان امتیازملٹری جنرل راحیل شریف کے ہمراہ ہلال امتیازملٹری جنرل قمرباجوہ سلامی کے چبوترے پرآئے۔

فوج کے سابق سپہ سالار نے اپنے الوادعی خطاب میں دشمنوں کو خبردار کردیا،ہماری تحمل کی پالیسی کو بھارت کمزور نہ سمجھے تو خود اس کیلئے بہتر ہے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کشمیر میں بھارتی مظالم کا خصوصیت سے ذکر کیا ، انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے بغیر خطے میں امن ممکن ہیں۔

جنرل راحیل شریف نے کہا کہ بیرونی خطرات سے نجات پانے کے اندرونی خطرات ختم کرنا ہوں گے،انہوں نے جرائم ، کرپشن اور انتہا پسندی کے خاتمے کو لازمی قراردیا۔

سابق چیف آف آرمی اسٹاف نے سی پیک کو اہم منصوبہ قرار دیا، اس حوالے سے انہوں نے اس حوالے سے دشمنوں کو پیغام دیا کہ وہ اس کے خلاف کوششیں چھوڑدیں۔

انہوں نے ضرب عضب میں فوج کی قربانیوں کا خاص طور ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن نے تاریخ کے رخ کو موڑ دیا۔

جنرل راحیل شریف نے سیاسی قیادت کے تعاون بھی شکریہ ادا کیا ، انہوں نے کہا کہ اداروں کے استحکام اور برتری پر یقین رکھتے ہیں۔

انہوں نے اپنے خطاب میں سیاسی قیادت، فوج اور ذرائع ابلاغ کا بھی شکریہ ادا کیا۔