پاناما کیس :وزیراعظم کے جواب، تقریر میں تضاد ہے،سپریم کورٹ

اپ ڈیٹ 30 نومبر 2016 10:24am
فائل فوٹو فائل فوٹو

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ پاناما کیس میں وزیراعظم  نواز شریف کے تحریری جواب اور ان کی قومی اسمبلی میں  تقریر میں تضاد ہے۔

بدھ کو چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ نے پاناما پیپرزکیس کی سماعت کی تو پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل  دیتے ہوئے کہا کہ  وزیراعظم نے تقاریر میں غلط بیانی کی اوردبئی میں فیکٹری کا نہیں بتایا۔

اس پرجسٹس اعجازالحسن نے کہاکہ ضمنی جواب اوروزیراعظم کی تقاریرمیں تضاد  نظر آتاہے۔

 جسٹس عظمت سعید نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ یہ نہیں بتایاگیاکہ جدہ سٹیل مل کا پیسہ کہاں سے آیا ؟ لندن فلیٹس کیلئے رقم کیسےاستعمال ہوئی؟

اس پرجسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ لگتا ہے سب کچھ میاں شریف نے کیا ، 2 دستاویز پرطارق شفیع کے مختلف دستخط ہیں ، ان کوملنے والے 12 ملین درہم کی دستاویز موجود نہیں۔

 عدالت نے قطر  میں ایک شہزادے کے خط پر ریمارکس میں کہاکہ اگر یہ تصدیق شدہ نہیں تو اسے کیوں دیکھیں ۔