مردم شماری نہیں کرائی تو وزیراعظم کٹہرے میں ہوں گے،سپریم کورٹ
فائل فوٹواسلام آباد:سپریم کورٹ نے حکومت کواگلے سال 15مارچ سے 15مئی کے درمیان مردم شماری کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگرمردم شماری نہیں کرائی گئی تو وزیراعظم کٹہرے میں ہوں گے۔
جمعرات کو چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے مردم شماری میں تاخیرکے حوالے سے ازخود نوٹس کی سماعت کی ۔
چیف جسٹس نے حکومت کی جانب سے مردم شماری کرانے کی حتمی تاریخ نہ دینے پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ مردم شماری کے حوالے سے حکومت کی نیت ہی ٹھیک نہیں ،مردم شماری نہ کرواکرپورے ملک سے مذاق کیا جا رہا ہے ، تمام سیاسی جماعتوں کویہی اسٹیٹس -کو سوٹ کرتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہاکہ ملکی پالیسیاں ہوا میں بن رہی ہیں،عوام کی حقیقی تعداد کسی کومعلوم ہی نہیں۔
ْ مردم شماری ہوگی تونئی حلقہ بندیاں ہوں گی مردم شماری کے بغیر انتخابات ملک کیساتھ مذاق ہے ، مردم شماری نہیں کرانی توآئین میں ترمیم کرلیں' ۔
اٹارنی جنرل نے جب مؤقف اختیارکیا کہ عدالت مرضی کی تاریخ دے دے ، حکومت مردم شماری کرا دے گی تو چیف جسٹس نے 15مارچ سے15مئی کے درمیان مردم شماری یقینی بنانے کا حکم دیا اورکہاکہ تحریری طورپرمتعلقہ دورانیہ میں مردم شماری کا عمل مکمل کرانے کا تحریری جواب دیں۔
سات سمبرتک حتمی تاریخ دیں ورنہ وزیراعظم کوعدالت میں بلائیں گے'۔
سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 7 دسمبر تک ملتوی کردی۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔