کراچی : امجد صابری قتل کیس، تحقیقاتی رپورٹ پر تحفظات دور

شائع 01 دسمبر 2016 01:32pm
File Photo File Photo

کراچی :امجد صابری اور فوجی جوانوں کے قتل کے الزام میں گرفتاردہشت گردوں کی جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم کی رپورٹ پرتحقیقاتی اداروں کے تحفظات دور ہوگئے۔ تاہم ادارے اب بھی ایک ملزم کی گرفتاری پرسندھ پولیس سے ناراض ہیں۔

سندھ پولیس کے کاونٹر ٹیریرزم ڈپارٹمنٹ نے کالعدم لشکر جھنگوی سے وابسطہ دہشت گردوں اسحاق بوبی اور عاصم کیپری کو گرفتار کیا تو چشم کشا انکشافات سامنے آئے۔پولیس کی کامیابی کا اعتراف کرتے ہوئے وزیر اعلٰی سندھ مراد علی شاہ نے خود گرفتاری سے متعلق نیوز کانفرنس کی اور جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم بھی قائم کی گئی۔

تاہم تحقیقاتی اداروں نے جے آئی ٹی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اختلافی نوٹ لکھ ڈالا۔ذرائع کے مطابق تحفظات دور کرنے کیلئے پولیس افسران نے تحقیقاتی اداروں کے افسران سے ملاقاتیں کیں۔

ملاقاتوں میں تحقیقاتی اداروں نے شکوہ کیاکہ انہیں وزیر اعلٰی کی نیوز کانفرنس سے قبل آگاہ کیا جانا چاہیئے تھاکیونکہ دہشت گرد فوجی جوانوں کے قتل میں بھی ملوث ہیں، ان سے مزید تفتیش کے ذریعےپورے نیٹ ورک کا قلع قمع کیا جاسکتا تھا۔

سنگین نوعیت کے مقدمات میں دہشت گردوں کی گرفتاری پر انعامی رقم  دوکروڑروپے سےزائد ہے۔تحقیقاتی اداروں نے چند روز قبل سی ٹی ڈی کے ہاتھوں گرفتار ایک اور ملزم کی گرفتاری پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔ذرائع کے مطابق جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم کی رپورٹ کے حوالے سے تحقیقاتی اداروں کے تحفظات دور کرلئے گئے ہیں۔