نیب: راجہ پرویز اشرف کیخلاف کرپشن مقدمے کی منظورین
File Photoاسلام آباد: نیب نے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف بجلی گھروں کے قیام میں بدعنوانی کے دو مقدمات دائر کرنے کی منظوری دیدی جبکہ بلوچستان کے سابق سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کی جانب سے دو ارب روپیہ واپس جمع کرانے کی پلی بارگین درخواست منظور کرلی۔
نیب اعلامیے کے مطابق ادارے کے ایگزیکٹوبورڈ کا اجلاس چیئرمین قمرزمان کی زیرصدارت اسلام آباد میں ہوا۔ نیب بورڈ نے ریشما پاور اور گلف رینٹل کے ریفرنسز میں راجہ پرویز اشرف کے خلاف دو مقدمات عدالت میں دائر کرنے کی منظوری دی۔
نیب بورڈ نے بلوچستان کے سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کی پلی بارگین منظور کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مشتاق رئیسانی اور سہیل مجید شاہ دو ارب روپیہ واپس دیں گے۔
نیب بورڈ نے چھ کیسز میں تحقیقات شروع کرنے کی منظوری دی ، ان میں سابق ایم ڈی سوئی سدرن عظیم صدیقی، سیدپور اسلام آباد کی سرکاری اراضی پر ناجائز قابض سردار حیات مندوخیل، جامعہ ولی خان مردان کے وائس چانسلرڈاکٹر احسان کے کیسز بھی شامل ہیں۔
نیب نے چھ انکوائریز شروع کرنے کی بھی منظوری دی، اس میں پی آئی اے میں بھرتیوں، نیشنل بینک کے غیرملکی قرض اکاؤنٹ ، بحرین اور نیویارک میں سولہ ملین ڈالر کے سکوک بانڈز کے اجراء کی کیسز شامل ہیں، شہید بے نظیرآباد کے ترقیاتی فنڈز میں گھپلوں کی ازسرنو انکوائری کا فیصلہ کیا گیا۔
نیب بورڈ نے ایم این اے منورتالپور ، پختونخوا کے سابق وزیر سردار بابک اور دیگر کیخلاف جاری تحقیقات ختم کرنے کی منظوری دی۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔