جب خفیہ ایجنسی نے بلّیوں کو جاسوسی کیلئے تیار کرنے کی کوشش کی
امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے (سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی) کی ستر سالہ تاریخ کا سب سے عجیب اور ناکام وقت وہ تھا جب انہوں نے بلیوں کو جاسوسی کیلئے ٹرین کرنے کا فیصلہ کیا۔
1960 کے درمیانی عرصے میں سی آئی اے نے 'اکوسٹک کٹی' کے نام سے ایک مختصر تجربہ کیا جس میں انہوں نے ایک ریاست کے سربراہ کی جاسوسی کیلئے بلی کے استعمال کی تیاری کی تھی۔
ریاستی سربراہ ایک ایسی جگہ رہتے تھے جہاں بلیوں کا آنا جانا رہتا تھا اور ان بلیوں پر کوئی دھیان نہیں دیتا تھا۔
سی آئی اے حکام کو جب اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے ایک بلی کی گردن پر ایک چھوٹا ٹرانسمیٹر لگا دیا ساتھ ہی اس کے کان میں ایک مائیکروفون بھی لگا دیا تاکہ آواز سنی جاسکے۔
یہ مائیکروفون ٹرانسمیٹر کے ساتھ ایک انتہائی باریک تار سے جوڑا گیا تھا جسے دیکھنا تقریباً ناممکن تھا۔
لیکن اس جاسوس بلی کے مطلوبہ جگہ آسانی سے پہنچنے کے بوجود بھی مشن ناکام رہا، کیونکہ جب بلی کو بھوک لگی تو اس نے جگہ چھوڑ دی اور کھانے کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی۔
اس وقت ایجنسی کو احساس ہوا کہ بلیّاں اچھی جوسوس نہیں بن سکتیں اور نہ ہی انہیں ٹرین کیا جاسکتا ہے۔
بشکریہ MSN

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔