!دو ارب انسانوں کو مرنا ہے حکومت کے ہاتھوں یا ۔ ۔ ۔
File Photoدو ارب لوگوں کو مرنا ہے چاہے خود اپنے ہاتھوں یا پھر حکومت کے ہاتھوں اور انسانوں کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کیسے مرنا چاہیں گے، یہ جملے ہیں بااثر سائنسدانوں جوکہ ایسا سوچتے ہیں۔
ان سائنسدانوں کا خیال ہے کہ زمین پر موجود انسانوں کی تعداد ایک مجوزہ یا پائیدار زندگی کے قیام کی حدود سے تجاوز کرچکی ہے، ان سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اب کرہ ارض پر موجود ہر تیسرے انسان میں ایک کو مرنے کا فیصلہ کرنا ہے اور اب ان پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح مرنا چاہتے ہیں یا پھر ترجیحی تحلیلی پروگرام حکومت کی جانب سے انسانوں کیخلاف شروع ہونگے۔
کیمبرج یونیورسٹی کے ماہر ماحولیات ڈاکٹر ایڈوین پیٹر کا کہنا ہے کہ زمین دنیا میں موجود تہذیب اور انسانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا بوجھ اب برداشت نہیں کرسکتی۔
ڈاکٹر ایڈوین کا کہنا ہے کہ وہ اور انکے ساتھی سیاستدان کھلے دل سے ہر بات کو قبول کرنے کیلئے تیار ہیں، ان کا مزید ماننا ہے کہ ہم وہ انسانوں کی اضافی بوجھ کو قابو کرنے کیلئے پروگرامز جن میں تعلیم ، خواتین کو اختیارات سمیت خاندانی منصوبہ بندی شامل ہیں آخری نقطے کی حدود کو بھی تجاوز کرچکے ہیں۔
ڈاکٹر ایڈوین کا خیال ہے کہ رواں صدی کے آخر تک دنیا کی آبادی دگنی ہونے کے امکانات ہیں، آبادی میں دگنا اضافہ قدرتی وسائل کے انحطاط کا سبب بنے گا۔
ان سائنسدانون کا ماننا ہے کہ عالمی ماحولیاتی نظام کے زوال کو روکنے کیلئے دنیا کی اس آبادی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
ڈاکٹر ایڈوین پیٹر جیسے سائنسدانوں کا گروپ مختلف شعبوں سے تعلق رکھتا ہے اور اس میں معیشت، حیاتیات، زراعت سمیت دیگر شعبے بھی شامل ہیں۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔