رزق خود چل کر آتا ہے

شائع 28 اکتوبر 2017 03:00pm
ٖFile Photo ٖFile Photo

کسی دیہات میں ایک نوجوان رہتا تھا ، تعلیم مکمل ہونے کے بعد گھروالوں نے ونوکری کے لئے دباو ڈالنا شروع کردیا۔، کئی مہینے نوکری کی تلاش کے بعد وہ تھک ہار کر بیٹھ گیا، رزق تو اللہ نے ہی دینا ہے، اب میں نوکری تلاش نہیں کروں گا، رزق اللہ نے ہی دینا ہے اور وہ رازق ہے۔ اور پھر وہ اپنے دیہات کے نزدیک گزرنے والی نہر کے پاس پیڑ کے نیچے بیٹھ گیا، دیکھتا ہے کہ نہر میں پتہ بہتا ہوا آرہا ہے، پتے کو پکڑنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اس پر نان اور حلوہ رکھا ہے۔

وہ پتے پر رکھے نان اور حلوے کو کھانا شروع کردیتا ہے، اسہی طرح وہ پھر شام میں بھی اسہی نہر کے پاس پیڑ کے نیچے بیٹھ جاتا ہے، تو پھر پتے پر نان اور حلوہ بہتے ہوئے آتے ہیں اور یوں یہ سلسلہ دس روز تک چلتا رہتا ہے، آخر ایک دن وہ نوجوان سوچتا ہے کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے اور یہ نان اور حلوہ کہاں سے بہتے ہوئے آرہے ہیں۔

یہ سوچتے ہوئے نہر کے کنارے کنارے چلنا شروع کردیتا ہے اور کافی دور چلنے کےبعد اسکے کو ایک بوڑھا نظر آتا ہے، قریب جاکر دیکھتا ہے تو اسکو کراہیت محسوس ہونے لگتی ہے، بابا جی سے پوچھتا ہے کہ بابا جی یہ کیا کررہے ہیں۔

بابا جی اسکو بتاتے ہیں وہ گرم گرم نان میں حلوہ رکھ کر پھوڑے کو تکور کررہے ہیں کیونکہ اس پھوڑے سے ان کو کافی تکلیف ہے اور ان کو یہ نسخہ ایک حکیم نے دیا ہے۔ اسکو یہ دیکھ کر ابکائیاں آنی شروع ہوجاتی ہیں، اور وہ سوچتا ہے کہ میں اتنے دنوں سے یہ کھانا کھارہاتھا، تو عرض ہے کہ اللہ نے رزق کا وعدہ ضرور کیا ہے اور جو محنت اور لگن سے رزق حاصل کرتے ہیں تو ان کو پاک رزق ملتا ہے ورنہ ۔ ۔ ۔