افغان جنگ کےباعث معاشرےمیں کلاشنکوف اورمنشیات کاکلچرآیا،وزیراعظم

شائع 22 جنوری 2020 11:10am
فائل فوٹو

ڈیووس :وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ افغان جنگ کےباعث ہمارےمعاشرےمیں کلاشنکوف اورمنشیات کاکلچرآیا،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دیں، اب کسی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔

ڈیووس میں پاکستان اسٹرٹیجی ڈائیلاگ سےخطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغان جنگ کےباعث ہمارےمعاشرےمیں کلاشنکوف اورمنشیات کاکلچرآیا،جس نے ہمارے معاشرے کو تباہ کیا،افغان امن کے لیے فعال کردار ادا کرتے رہیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کےخلاف جنگ میں بھاری نقصان اٹھایا اور پاکستانی قوم نے 70ہزارجانوں کی قربانی دی،ہم نےفیصلہ کیا کہ اب کسی بھی جنگ کاحصہ نہیں بنیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستانی سرزمین مختلف تہذیبوں کامسکن ہے،پاکستان میں قیام امن کےبعدزیادہ فائدہ سیاحت کوہوا ،پاکستان کےکئی سیاحتی مقام دنیاکی نظروں سےاوجھل ہیں۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ سیاحت کوفروغ دےکر معیشت کوترقی دی جاسکتی ہے،سیاحت کے فروغ کے لیے حکومتی سطح پر کام کیا جارہا ہے، سیاحت کے فروغ سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں ہنرمندنوجوانوں کی کمی نہیں اور پاکستان کی زیادہ ترآبادی نوجوانوں پرمشتمل ہے، نوجوانوں کےروزگارکے لیے غیرملکی سرمایہ کاری لائیں گے،حکومت سنبھالتے ہی معیشت پر توجہ دی۔

اپنے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ 60کی دہائی میں پاکستانی معیشت تیزی سےترقی کررہی تھی،70کی دہائی میں پاکستانی معیشت تنزلی کی جانب جانےلگی،پاکستان کی آدھی سےزیادہ آبادی نوجوانوں کی ہے،حکومت بناتےہی معیشت کے لیے کام کیا۔

وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان میں تیزی سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا، پاکستان میں کان کنی کے مواقع موجود ہیں۔

عمران خان کہا کہ افغان امن عمل کے لیے امریکاکےساتھ مل کرکام کررہےہیں،افغانستان میں امن کےبعدپاکستان کی وسط ایشیائی ممالک تک رسائی ہوگی۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب اورایران تنازع میں اہم کردار ادا کیا،ہماری کوشش ہے سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات بہتر ہوں۔