انیس سال سے افغانستان کے مسئلے کا حل ڈھونڈ رہے ہیں،وزیراعظم
فائل فوٹوڈیووس:وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 19سال سے افغانستان کےمسئلےکاحل ڈھونڈرہےہیں، کیا امریکا اب بھی کوئی نیا مسئلہ چاہتا ہے؟۔
وزیراعظم عمران خان نے امریکی ٹی وی سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ 19سال سے افغانستان کےمسئلے کاحل ڈھونڈرہےہیں،افغانستان میں امن کے قیام کے لیے مذاکرات کی کوششوں میں ہیں، افغانستان میں اب بھی لوگ مر رہے ہیں، 19سالوں سے ٹریلین ڈالرز خرچ ہوچکے ہیں، کیا امریکا اب بھی کوئی نیا مسئلہ چاہتا ہے؟۔
وزیراعظم نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ امریکا کا تنازع افغانستان سے بہت زیادہ بڑا ہوگا،عوام کو کسی بھی مسئلے کا فوجی حل نہیں چاہیئے،فوج ایک مسئلہ حل کرتی ہے 5نئے مسئلے سامنے آجاتے ہیں،جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں،ایران تنازع ترقی یافتہ ممالک کے لیے کسی آفت سے کم نہیں ہوگا،ایران امریکا تنازع سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا،سب کچھ درہم برہم ہوجائے گا جس سے غربت بڑھے گی۔
عمران خان نے مزید کہا کہ میں ٹرمپ سے کہنا چاہتا ہوں جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں،نائن الیون میں پاکستان کا کوئی لینا دینا نہیں تھا،میں نائن الیون کے بعدجنگ کا مخالف تھا،پاکستان اسٹریٹیجک لحاظ سے اہم ملک ہے۔
مقبوضہ کشمیر کےحوالے سے وزیراعظم عمران خان کاکہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر حل کرنا میر ی اولین ترجیح ہے،دنیا کو احساس نہیں کشمیر کتنا سنجیدہ مسئلہ ہے،بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں 80لاکھ کشمیریوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ بھارت میں ہندوانتہا پسندنظریات کا غلبہ ہے جسے ہندوتوا تو کہتے ہیں،آرایس ایس مسلمانوں کی نسل کشی پر یقین رکھتی ہے،نریندرمودی آرایس ایس کے تاحیات رکن ہیں،وہ آرایس ایس بنانےوالے نازی ازم سے متاثر تھے،3بار دہشت گرد قرار دی گئی تنظیم آر ایس ایس بھارت پر حکمران ہے،اس کا مقصد مسلمانوں کا قتل عام ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ دنیا کے طاقتورملک کے صدر ہونےکے ناطے ٹرمپ مداخلت کریں،اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے پاس بھارت کو باز رکھنے کے متعدد طریقے ہیں،بھارت میں دو متنازعے قانون پر احتجاج ہورہے ہیں۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔