مسئلہ کشمیر حل کرنا اولین ترجیح ہے،وزیر اعظم  عمران خان

اپ ڈیٹ 23 جنوری 2020 10:44am
فائل فوٹو

ڈیووس:وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیرحل کرنا اولین ترجیح ہے،اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اورامریکی صدر اپنا کردار ادا کریں۔

وزیراعظم عمران خان نے امریکی ٹی وی کو انٹرویودیتےہوئے کہا کہ کشمیر کی صورتحابہت سنگین ہوچکی ہےاورمیں صورتحال کوسنگین کیوں کہتا ہوں ،وہ ا س لیے کہ آپ بھارتی آرمی چیف کا بیان دیکھیں،جس نے کہا ہے کہ آزاد کشمیربھی بھارت کا حصہ ہے،پاکستان اور بھارت 2جوہری طاقتیں ہیں،کشمیر2ایٹمی طاقتوں کےدرمیان فلش پوائنٹ ہے،اقوام متحدہ، سلامتی کونسل بھارت کو باز رکھیں،اسی لیے میں چاہتا ہوں کہ امریکی صدر تنازع کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے ذریعےمداخلت کریں اور اپناکرداراداکریں۔

عمران خان نے کہا کہ کشمیر میں احتجاج کرنے والی سیاسی قیادت اور نوجوانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے،80 لاکھ بھارتی فوج نے کشمیریوں کو یرغمال بنارکھا ہے،5اگست کے بعد سے 8لاکھ کشمیریوں کو کرفیو میں بند کردیا گیا ہے،ان کے تمام سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کیا جاچکا ہے، ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرکے کشمیر سے باہرقید کردیا گیا ہے۔

 وزیراعظم عمران خان نے اپنے انٹرویومیں مزید کہا کہ ہندو انتہاپسند نظریہ"ہندوتوا" بھارت پر حاوی ہے،آرایس ایس نازی ازم سے متاثر ہوکر بنائی گئی،جو3باردہشت گرد قرار دی جاچکی ہے،آج اس تنظیم کے لوگ بھارت پر حکمران ہیں،یہ تنظیم بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کررہی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ بھارت پر اس وقت انتہا پسند افراد کی حکومت ہے جو ہندوتوا کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں،اگرآپ گوگل کریں تو دیکھیں گے کہ آر ایس ایس کو بنانے والے نازی نظریے سے متاثر تھے،یہ لوگ نازی ازم کو اچھاسمجھتے ہیں،یہ لوگ مسلمانوں کی نسل کشی پر یقین رکھتے ہیں،مودی اس تنظیم کے تاحیات رکن ہیں،اس کا تحریری ثبوت موجود ہے،یہی وہ آئیڈیالوجی ہے جو گاندھی کے قتل کا باعث بنی۔

وزیراعظم عمران خان نے بھارت میں مسلمان مخالف قانون پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں دومتنازع قوانین مسلمانوں پر اثرانداز ہورہے ہیں،جس پرملک گیر احتجاج جاری ہے۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ آرایس ایس کشمیرمیں آبادی کا تناسب تبدیل کرناچاہتی ہے،جنگ مسئلےکاحل نہیں،تنازعات بات چیت سے حل ہونا چاہیئں۔