گندم کی درآمد کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹولاہورہائی کورٹ نے گندم کی درآمد کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 29جنوری تک ملتوی کردی۔
لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مامون رشید شیخ نے گندم کی درآمد کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔
عدالت نے استفسار کیا کہ بتایا جائے گندم سمگل ہوئی،افغان مہاجروں کودی گئی یادوسرےصوبےکودی گئی۔
جس پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے عدالت کو بتایا کہ فلورملز کےپاس اور مارکیٹ میں گندم کی وافر مقدار موجود ہے،23لاکھ ٹن گندم ابھی بھی موجود ہے۔
عدالت نے پھر استفسار کیا کہ پھریہ تاثرکیوں ہے کہ گندم دستیاب نہیں اور آٹا کیوں مہنگا ہوا۔
سیکرٹری فوڈ نے بتایا کہ چکیوں والے اوپن مارکیٹ سے گندم خریدتے ہیں۔انہیں اوپن مارکیٹ سے گندم مہنگی ملی توانہوں نےریٹ بڑھادیا۔
عدالت نے ریمارکس دئیے کہ اداروں کےدرمیان رابطوں کا فقدان ہے،اداروں کے درمیان رابطوں کومربوط کرنے کےلئے کوآرڈینیشن کا نظام اپنایا جائے۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے بتایا کہ اس حوالے سے چار مزید ایڈیشنل چیف سیکریٹریز کے عہدے بنائے جارہے ہیں۔
عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ 60فیصد آٹا میں ملاوٹ کی شکایات بھی ہیں،وزن اور غذائیت میں کے معاملات کو کس نے دیکھنا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت 29جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔