قومی بچت اسکیموں سے سرمایہ کاری کرنے والوں کی ذرائع آمدن کی جانچ پڑتال کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 25 جنوری 2020 04:04pm

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی ایک اورشرط پرعملدرآمد کے ضمن میں پیشرفت، قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کو منی لانڈرنگ اوردہشتگردی کی مالی معاون کے خطرے کی روک تھام اور  سرمایہ کاری کی چھان بین کےلئے بورڈ قائم قائم کردیا ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزارت خزانہ کے ایڈیشنل سیکریٹری بجٹ کی سربراہی میں پانچ  رکنی سپروائزری بورڈ قائم کردیا گیا ہے۔ دیگر ممبران میں اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی، فنانشل مانٹرنگ یونٹ اور وزارت خزانہ کے عہدیدار شامل ہیں۔

بورڈ قومی بچت اور پاکستان پوسٹ کی اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی جانچ پڑتال کے عمل کی نگرانی کرے گا۔

ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف شرائط کے تحت قومی بچت اسکیموں میں کالعدم قراردی گئی تنظیموں اور ان کے عہدیداران کی نشاندہی کی جائے گی۔

پروگرام کے تحت قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی بائیو میٹرک ویری فیکیشن کی جائے گی۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ قومی بچت اسکیموں میں 70 لاکھ سرمایہ کاروں نے 4033 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔

حکومت نے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت روکنے کےلئے قومی بچت اسکیموں سے سرمایہ کاری کرنے والوں کی ذرائع آمدن کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔