دہشتگردوں کےعلاج معالجے سے متعلق کیس، سماعت 15فروری تک ملتوی

شائع 25 جنوری 2020 02:04pm
فائل فوٹو

انسدادہشتگردی عدالت میں دہشتگردوں کےعلاج معالجے سے متعلق کیس کی سماعت عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 15 فروری تک ملتوی کردی۔

 انسداد دہشتگردی عدالت میں ڈاکٹر عاصم کے اسپتال میں دہشتگردوں کے علاج سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

سماعت کے موقع پرروف صدیقی،قادر پٹیل عثمان معظم ،  مدعی مقدمہ رینجرز ڈی ایس آر عنایت اللہ درانی وکیل رینجرز ساجد محبوب شیخ  عدالت میں پیش  ہوئے فریقین کی جانب سے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی۔

ڈاکٹر عاصم،میئر کراچی بیرون ملک ہونے کے باعث پیش نہ ہو سکے۔عدالت  نے  ائندہ سماعت  پر تمام ملزمان کو حاضری یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

ملزمان کے وکلا آئندہ سماعت مدعی مقدمہ کے بیان پر جرح جاری رکھیں گے۔

کیس میں میئر کراچی وسیم اختر،انیس قائم خانی،روف صدیقی،قادر پٹیل،ڈاکٹر عاصم،عثمان معظم نامزد ہیں ایم کیو ایم رہنماء روف صدیقی نے بیرون ملک جانے کی درخواست  کی گئی جو کہ عدالت نے منظور کرلی۔

سماعت کے موقع پر رہنما ایم کیو ایم روف صدیقی نے  اپنی ہی اتحادی حکومتی جماعت پر کڑی تنقید کی۔

ان کا میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی نے لوگوں سے منہ کا نوالہ چھین لیا ہے۔ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔سمجھ نہیں آتا یہ حکومت کی نااہلی ہے یا یہ سب جان بوجھ کر کیا جارہا ہے۔حکومت ہوش کے ناخن لے اگر حالات ایسے ہی رہے تو عوام سڑکوں پر آجائیں گے۔

انہوں نے کہا ایم کیو ایم کا پی ٹی آئی سے اتحاد معاہدوں اور اصولوں پر مبنی ہےلیکن 16 ماہ میں خراب کارکردگی کے باعث عوام کارکنان ہم سے سوال کرتے ہیں کہ پرفارمینس کہاں ہے۔اگر ہم عوام کو سہولت نہیں دے سکتے تو حکومت میں رہنے اور وزارتیں لینے کا کوئی فائدہ نہیں۔پارٹی کا فیصلہ ہے کہ ہم حکومت کی حمایت جاری رکھیں گے لیکن وزارت میں شامل نہیں ہوں گے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے صرف زبانی معاہدوں پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی گئی ہے عملی اقدامات نہیں کئے گئے۔