بغیر پروٹوکول نجی اسپتال میں چلے جائیں تو کوئی نہیں پوچھے گا ،چیف جسٹس
فائل فوٹواسلام آباد:چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے 3سالہ بچی کی ہلاکت کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بغیر پروٹوکول کسی نجی اسپتال میں چلے جائیں تو کوئی نہیں پوچھے گا ،نجی اسپتالوں میں مریضوں کا خیال نہیں رکھا جاتا،لوگوں سے پیسے لے لیتے ہیں لیکن علاج نہیں کرتے۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے لاہور کے نجی اسپتال میں 3سالہ بچی کی ہلاکت کے کیس کی سماعت کی۔
وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور پنجاب حکومت کی طرف سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پیش ہوئے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نجی اسپتالوں میں مریضوں کا خیال نہیں رکھا جاتا، لوگوں سے پیسے لےلیتے ہیں مگر علاج نہیں کیا جاتا ،ڈاکٹرزکی غفلت سے مریض مرجاتے ہیں ،اسپتال کوغفلت پر10سے 20 ملین روپے لواحقین کو دینا پڑیں تو پتہ چلے گا۔
چیف جسٹس نے کراچی کی امل عمر کیس کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ کراچی کے نیشنل اسپتال کا امل عمر کا معاملہ بھی بہت سنجیدہ تھا، نجی اسپتالوں کا یہ حال ہے کہ اگربغیر پروٹوکول کسی اسپتال میں چلے جائیں توکوئی نہیں پوچھے گا ۔
نجی اسپتال کے وکیل نے بتایا کہ بچی کے ورثاء کو نجی اسپتال نے معاوضہ ادا کردیا ہے۔
بعدازاں سپریم کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومت کے نمائندوں کی نجی اسپتالوں کو ریگولیٹ کرنے کےلیے قانون سازی کی یقین دہانی پر کیس نمٹا دیا۔













اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔