مفت میں سرکاری کام کر رہے ہیں، کام کے ساتھ ناانصافی نہ کریں، چیف جسٹس
فائل فوٹواسلام آباد: اکنامک افئیر کے ملازم کی ملازمت پر بحالی سے متعلق کیس میں چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ سرکاری کام پر آپ کی دلچسپی نہیں تو پھر کام کیوں کر رہے ہیں، مفت میں سرکاری کام کر رہے ہیں،سرکاری کام کے ساتھ ناانصافی نہ کریں۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے اکنامک افیئر کے ملازم حامد تنویر عباسی کی ملازمت پر بحالی سےمتعلق کیس کی سماعت کی۔
سپریم کورٹ نے بغیر تیاری کے آنے پر ڈپٹی اٹارنی جنرل میاں اصغرعلی پر برہمی کا اظہار کیا۔
چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ سرکاری کام پر آپ کی دلچسپی نہیں تو پھر کام کیوں کر رہے ہیں، اپنا مذاق مت بناؤ، کسی پرائیویٹ کلائنٹ کے کیس پر ایسا کرتے تو وہ آپ کا گلا پکڑ لیتا، سرکاری کام کے ساتھ ناانصافی نہ کریں۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس مقدمے میں حقائق تسلیم شدہ ہیں اس لیے ساتھ نہیں لایا،عدالت سے معذرت چاہتا ہوں میرے انکل کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی۔
جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا اس کیس میں سزا کتنی ہونی چاہیئے، سزا پر عدالتی حوالے ساتھ لانے چاہیئے تھے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ حامد تنویر ایک سال تک سعودی عرب میں کام کرتا رہا۔
بعدازاں سپریم کورٹ نے تنویراحمد کی برطرفی کا فیصلہ بحال کردیا۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔