خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس ایک بار پھر ہنگامہ آرائی کی نذر،اپوزیشن کا احتجاج
فائل فوٹوپشاور:خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس ایک بار پھر ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا،اپوزیشن اراکین نے اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے خوب نعرے بازی کی جس پر حکومتی اراکین بھی پیچھے نہیں رہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس اسپیکر مشتاق غنی کی صدارت میں شروع ہوا تو تلاوت قران کے بعد ہی اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور ڈیسک بجانا شروع کردیئے۔
اپوزیشن اراکین نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کیا اور شدید نعرے بازی کی۔
اس دوران حکومتی اراکین نے اپوزیشن اراکین کے نعروں کے جواب میں نعرے لگائے تاہم اسپیکر اسمبلی مشتاق غنی نے احتجاج کے دوران ہی ایجنڈا نمٹا دیا۔
خیبر پختونخوا اسمبلی ہنگامہ آرائی پر وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی برہم ہوگئے ،انہوں ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے پاس ایجنڈا نہیں ،صرف شور شرابہ کرتے ہیں جب تک اپوزیشن اسپیکر سے معافی نہیں مانگے گی ہم ان کے ساتھ بات نہیں کریں گے۔
شوکت یوسفزئی نے مزید کہا کہ اپوزیشن کے اس رویہ کی مذمت کرتا ہوں،اپوزیشن اسمبلی آکر کر ٹی اے ڈی اے وصول کرتے ہیں اور صرف اسمبلی کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر اکرم درانی نے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ ہے اسپیکر معافی مانگے گا،ہمارا احتجاج اسپیکر کے خلاف ہے،جب تک اسپیکر معافی نہیں مانگے گا ہمارا احتجاج جاری رہے گا ،ایسا اسپیکر نہیں دیکھا جو اجلاس بلانے کے لیے وزیر اعلی سے اجازت لیتے ہیں،3بار ریکوزیشن جمع کرائی اجلاس نہیں بلایا ۔
اکرام درانی نے کہا کہ قائمہ کمیٹیوں میں بھی نظرانداز کیا جارہا ہے،حکومت اور اس طرح نہیں چل سکتی ،حکومت اور اپوزیشن میں اسپیکر پل کا کردار ادا کرتا ہے،اسپیکر کی رولنگ پر بھی عمل نہیں ہوتا۔
اپوزیشن لیڈر کا مزید کہنا تھا کہ گورنر کے فرمان پر اجلاس بلایا گیا اور اس کے ایڈوائزر بل پیش نہیں کرسکتا،اسپیکر ہمارے سامنے بیٹھ کر معافی مانگیں گے،ایسی حکومت ہے دو دو اطلاعات کے وزیر ہیں،اپنے وزراء کو عزت نہیں دی جاتی۔
بعدازاں خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس پیر کے روز دو بجے تک ملتوی کردیا۔


















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔