سپریم کورٹ کا بلڈر اخلاق میمن کو فوری گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم
فائل فوٹوکراچی :سپریم کورٹ نے کلفٹن میں کام تھری نامی عمارت کی تعمیر سے متعلق کیس میں بلڈر اخلاق میمن کو فوری گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کمشنر کو زمین قبضے میں لینے کی ہدایت کردی۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں کلفٹن میں واقع کام تھری نامی عمارت کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔
عدالت کا کہنا تھا کہاں ہے بلڈر ؟ اخلاق میمن کہاں ہے ؟ جس پر بلڈر کے وکیل نے کہا کہ وہ ملک سے باہر ہیں کینیڈا جا چکے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ ریڈ وارنٹ جاری کرتے ہیں گرفتار کرکے لایا جائے ،جس پر وکیل نے کہا کہ تھوڑی مہلت دے دیں ہم جواب جمع کرا چکے ہیں ،جس پر عدالت نے کہا کہ وہ بھاگ گیا ہے ہم ریڈ وارنٹ سے گرفتار کرائیں گے ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کمشنر صاحب زمین کو فوری قبضے میں لیں ،جس پر وکیل نے کہا کہ یہ معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں بھی زیر التوا ءہے ہماری درخواست سنی جائے۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے بلڈر کی درخواست پر ایڈووکیٹ جنرل اور کمشنر کراچی کو نوٹس جاری کردیا ۔
بعدازاں اسی عدالت میں ریلوے کی زمین پر حیات ریجنسی ہوٹل کی تعمیر سے متعلق کیس سماعت ہوئی۔
چیف جسٹس نے وکیل سے کہا آپ ادائیگی کا ثبوت دکھائیں آپ نے خریدی ہے زمین کتنے پیسے کس طرح ادا کیے ؟ تفصیل بتائیں ، اربوں روپے کی زمین 53کروڑ کی کیسے مل جائے گی ؟ ایسا نہیں کہ کراچی بکنے کے لیے کھڑا ہوا ہے، آپ کو کوئی گفٹ باکس آیا ہے کیا ؟ کیسے خرید لی یہ زمین ؟ بیچنے والوں کو بھی اختیار نہیں تھا کیسے بیچ دی انہوں نے ؟ ۔
عدالت کا کہنا تھا یہ پبلک لینڈ ہے کیسے بیچ سکتا ہے کوئی ؟ جس پر ریلوے وکیل کا کہنا تھا کہ 16سال سے کوئی تعمیرات نہیں ہوئیں اور 2014 سے کوئی کرایہ بھی نہیں ملا، موجودہ قیمت ساڑھے تین ارب روپے ہے زمین کی۔
چیف جسٹس نے کہا آپ کے منسٹر کہتے ہیں یہ زمین بک جائے تو سارے دکھ درد ختم ہوجائیں گے ، پاکستان میں نئی ریلوے کھڑے ہوجائے گی، آپ یہ بات یاد رکھیے گا اب ، کہا یہ اربوں کھربوں کی زمین ہے۔
بعدازاں عدالت نے سیکریٹری ریلوے اور دیگر کو نوٹس جاری کرکے سماعت ملتوی کردی۔


















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔