Aaj TV News

BR100 4,519 Increased By ▲ 22 (0.49%)
BR30 18,277 Decreased By ▼ -62 (-0.34%)
KSE100 44,114 Increased By ▲ 178 (0.41%)
KSE30 17,034 Increased By ▲ 95 (0.56%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,283,886 411
DEATHS 28,704 7
Sindh 475,097 Cases
Punjab 442,876 Cases
Balochistan 33,471 Cases
Islamabad 107,601 Cases
KP 179,888 Cases

قومی احتساب بیورو (نیب) سندھ اسمبلی کے مفرور اسپیکر اور پیپلز پارٹی کے رہنما آغا سراج درانی کے 21 روز گزرنے کے باوجود تاحال کوئی سراغ نہیں لگا سکا ہے۔

گزشتہ ماہ 13 اکتوبر کو سندھ ہائی کورٹ نے 1.6 ارب روپے کرپشن کیس میں آغا سراج درانی اور 10 دیگر ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی۔ جس کے بعد نیب کی ٹیم نے فوراً آغا سراج درانی کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا، جہاں پیپلز پارٹی کے کارکنان اور اسپیکر سندھ اسمبلی کے ملازمین نے مزاحمت کی اور انہیں گھر میں داخل ہونے سے روک دیا۔

چھاپہ مار ٹیم اگلی صبح اسپیکر کے گھر سے انہیں گرفتار کیے بغیر واپس لوٹ گئی۔

آج بروز جمعرات بتاریخ 4 نومبر اکیس روز گزرنے کے باوجود نیب کی ٹیم اور سندھ پولیس آغا سراج درانی کا سراغ لگانے میں ناکام دکھائی دے رہی ہیں۔

جبکہ آغا سراج گرفتاری سے بچ کر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور نظام انصاف کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر منتخب قانون ساز ملک کے قانون پر عمل نہیں کریں گے تو پھر عام آدمی سے ہمیں کیا امید رکھنی چاہیے۔

اسپیکر سندھ اسمبلی کو نیب کے سامنے پیش ہو کر ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دینا چاہئیے اور اور ٹرائل کا سامنا کرنا چاہئیے۔

اس طرح سے آغا سراج درانی کا فرار ہونا نیب اور پولیس کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے جو 21 دن گزر جانے کے باوجود ان کا سراغ لگانے میں ناکام ہیں۔

واضح رہے کہ رہنما پیپلز پارٹی آغا سراج درانی کو مبینہ طور پر بدعنوانی کے ذریعے آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزامات کا سامنا ہے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے دعویٰ کر رکھا ہے کہ اسپیکر سندھ اسمبلی 1985 سے 2018 تک اپنی ظاہر کردہ کل آمدن اور اثاثوں کے درمیان 1.6 ارب روپے سے زیادہ کے فرق کا حساب نہیں دے سکے۔

ان کی اہلیہ ناہید سراج درانی اور تین بیٹیوں سونیا، سارہ اور شاہانہ کو عدالت پہلے ہی ذاتی حاضری سے مستثنیٰ قرار دے چکی ہے۔

درج بالا تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، آج نیوز اور اس کی پالیسی کا تحریر کے متن سے متفق ہونا ضروری نہیں۔