امریکہ کی وال اسٹریٹ کس دیوار کی وجہ سے وال اسٹریٹ کہلاتی ہے
امریکہ میں کاروبار کے حوالے سے مشہور وال اسٹریٹ کا نام تقریب ہر ایک نے سن رکھا ہے۔ نیویارک شہر کے علاقے لوئر مین ہٹن میں اس سڑک کے دونوں اطراف بڑے بڑے کاروباری اداروں کے دفاتر ہیں۔ نیویاک اسٹاک ایکس چینج کے علاوہ دیگر کئی اسٹاک ایکسچینز بھی یہاں پر موجود ہیں۔
نیویارک کی وال اسٹریٹ اپنی کاروباری ساکھ کی وجہ سے اتنی مشہور ہے کہ دنیا کے مختلف شہروں کے بڑے کاروباری مرکز کو غیر رسمی طور پر وال اسٹریٹ کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کراچی کی آئی آئی چندریگر کو پاکستان کی وال اسٹریٹ کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں پاکستان اسٹاک ایکس چینج اور دیگر کاروباری ادارے ہیں۔
لیکن کیا آپ نے غور کیا ہے کہ امریکہ وال اسٹریٹ کا یہ نام کیسے پڑا اور اس میں لفظ وال (wall) یعنی دیوار کس حوالے سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس جگہ وال اسٹریٹ ہے صدیوں پہلے یہاں پر ایک دیوار ہوتی تھی۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ 17ویں صدی میں جب امریکہ میں آباد کاری شروع ہوئی تو جہاں نیویارک شہر ہے وہاں ڈچ باشندوں نے نیو ایمسٹرڈیم کے نام سے ایک شہر بسایا۔ اردو میں ڈچ باشندوں کو ولندیزی کہا جاتا ہے۔ ولندیزی دنیا کے کئی خطوں میں انگریزوں سے پہلے پہنچے تھے۔ باقی دنیا کی طرح یہاں بھی ان کی انگریزوں سے چبقلش چل رہی تھی۔
نیو ایمسٹرڈیم بھی انہوں نے ہی بسایا اور 1640 کے لگ بھگ انہوں نے شہر کے تحفظ کے لیے ایک دیوار بنائی جس کی اونچائی 12 فٹ تھی۔
اس دیوار کا مقصد یہ تھا کہ نیو ایمسٹرڈیم کو انگریزوں یعنی برطانیہ سے آنے والوں، مقامی امریکیوں یعنی ریڈ انڈینز اور ڈاکوؤں سے بچایا جا سکے۔

لیکن 1664 میں انگریزوں نے سمندر کی طرف سے نیوایمسٹرڈیم پر حملہ کیا اور شہر پر قبضہ کرلیا۔
انگریزوں نے نیو ایمسٹرڈیم کا نام بدل کو نیویارک رکھ دیا۔ شہر کی حفاظت کے لیے بنائی گئی دیوار گرا دی اور وہاں پر ایک سڑک بنا دی۔ اس سڑک کو وال اسٹریٹ کہا جانے گا۔
نیویارک کے پرانے نقشے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ولندیزی باشندوں کی بنائی گئی دیوار نیوایمسٹرڈیم کو باقی علاقے سے بالکل الگ کرتی تھی۔ نیوایمسٹرڈیم تین اطراف سے سمندری پانی میں گھرا تھا اور چوتھی سمت میں یہ دیوار تھی۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔