سانحہ گُل پلازا: ریسکیو آپریشن سست روی کا شکار، ہلاکتیں 28 ہوگئیں، 85 افراد لاپتہ

متاثرہ پلازا میں ستر فیصد ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ پہلے اور دوسرے فلور کو کلیئر کر دیا گیا ہے: میئر کراچی
شائع 21 جنوری 2026 08:29am

کراچی کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازا شاپنگ سینٹر میں تیسرے درجے کی آتشزدگی کے بعد ریسکیو اور سرچ آپریشن تاحال سست روی کا شکار ہے۔ امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، تاہم محدود وسائل، بھاری ملبے اور تکنیکی رکاوٹوں کے باعث کام کی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔ اب تک اس سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد 28 ہو چکی ہے جبکہ 85 افراد تاحال لاپتا ہیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق گزشتہ روز ملبے سے مزید دو لاشیں برآمد کی گئی تھیں۔ سات میتیں شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں جبکہ 21 ناقابل شناخت لاشیں ایدھی سرد خانے میں موجود ہیں۔

حکام کے مطابق، امدادی ٹیمیں عمارت کے اندر داخل ہو چکی ہیں اور جہاں تک ممکن ہو رہا ہے سرچنگ کی جا رہی ہے، تاہم وہ حصے جو عمارت کے گرنے سے دب چکے ہیں وہاں تاحال رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔

فائر آفیسر ظفر خان نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ کولنگ کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور دھواں ختم ہو چکا ہے۔

ان کے مطابق جتنا ایریا کھلا اور محفوظ تھا اسے سرچ کر لیا گیا ہے اور وہاں کسی شخص یا لاش کی موجودگی نہیں ملی۔

انہوں نے کہا کہ ریمپا پلازا کے ساتھ متصل دبے ہوئے حصے کی سرچنگ صبح سورج کی روشنی میں مختلف مراحل میں کی جائے گی کیونکہ رات کے وقت وہاں کام کرنا خطرناک ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بیسمنٹ یا دیگر حصوں میں گرم پانی موجود نہیں ہے جس سے آگ دوبارہ بھڑکنے کا خدشہ کم ہو گیا ہے۔

چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے آج نیوز سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ فائر بریگیڈ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور آگ سے بچاؤ کی تربیت کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمارتوں میں فائر فائٹنگ کا موثر نظام ہونا ناگزیر ہے اور آگ کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ فوری ردعمل دیتی ہے۔

دوسری جانب فلاحی تنظیم جے ڈی سی کے سربراہ ظفر عباس نے ریسکیو آپریشن پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 85 گھنٹے گزرنے کے باوجود لاپتا افراد کو ڈھونڈنے کی رفتار تسلی بخش نہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر عمارت میں متعدد دروازے موجود تھے تو لوگ چھت تک کیوں نہ پہنچ سکے۔

ظفر عباس نے مطالبہ کیا کہ ہر مرنے والے کی الگ ایف آئی آر درج کی جائے اور لاشوں کی وصولی اور شناخت کے لیے واضح نظام بنایا جائے۔

سانحے میں لاپتا افراد کے لواحقین کا دکھ بھی کم نہیں ہو رہا۔ ایک لاپتا نوجوان کے والد نے روتے ہوئے بتایا کہ تین دن سے گھر میں کسی نے کھانا تک نہیں کھایا۔

ان کے مطابق بیٹے کی جیکٹ، گلاس اور چپل دیکھ کر گھر والے رو پڑتے ہیں۔ انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ خدارا کچھ کریں اور ان کے بیٹے کو تلاش کیا جائے۔

آج نیوز کی ٹیم گل پلازا کی بیسمنٹ میں بھی پہنچی جہاں مکمل تباہی کے مناظر دیکھنے میں آئے۔ بیسمنٹ کی تمام دکانیں جل کر خاکستر ہو چکی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ کل دو بج کر پندرہ منٹ پر وہاں دوبارہ آگ لگی تھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے بیسمنٹ کو راکھ بنا دیا۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور بعد ازاں رات گئے دوبارہ گل پلازا پہنچ کر ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیا۔ متعلقہ اداروں نے انہیں وہاں بریفنگ دی۔

میئر کراچی کے مطابق متاثرہ پلازا میں ستر فیصد ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ پہلے اور دوسرے فلور کو کلیئر کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایس بی سی اے اور دیگر ادارے مل کر جیک سسٹم نصب کریں گے کیونکہ بلڈنگ میں کچھ تکنیکی نقص کی نشاندہی ہوئی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہر کی تمام عمارتوں میں فائر سیفٹی سسٹم نصب ہونا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔

ادھر پولیس نے ملبے سے نکلنے والی نقدی چرانے کی کوشش کرنے والے ایک مبینہ مزدور کو حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس کے مطابق موقع پر موجود انتظامیہ نے مزدور کو رقم چوری کرتے ہوئے پکڑا جسے مزید تفتیش کے لیے تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔

تاجر برادری نے سانحے کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے انہیں تنہا نہ چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ایک کروڑ روپے امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ کئی بازاروں میں حفاظتی انتظامات تسلی بخش نہیں جس پر توجہ دینا ضروری ہے۔

سانحہ گل پلازا کا معاملہ قومی اسمبلی میں بھی زیر بحث آیا جہاں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

ایم کیو ایم کے رہنماؤں فاروق ستار اور امین الحق نے واقعے کو مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا، جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے شہلا رضا اور عبدالقادر پٹیل نے سانحے کا ذمہ دار ایم کیو ایم کو قرار دیا۔

ایوان میں ہونے والی اس تلخ بحث نے اس سانحے کے مختلف پہلوؤں پر جاری سیاسی اختلافات کو بھی نمایاں کر دیا۔