اسلام آباد پولیس نے ایمان مزاری اور ہادی علی کو گرفتار کرلیا

ایمان مزاری اور ہادی علی کو سرینہ چوک کے قریب پولیس نے روکا اور بعد ازاں گرفتار کر لیا، ذرائع
اپ ڈیٹ 23 جنوری 2026 03:34pm

اسلام آباد میں پولیس نے وکیل اور سماجی کارکن ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی کو گرفتار کر لیا۔

ذرائع کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی کو سرینہ چوک کے قریب پولیس نے روکا اور بعد ازاں گرفتار کیا۔

دونوں افراد ہائی کورٹ بار کی وین میں سفر کر رہے تھے۔ پولیس سرینہ چوک انڈر پاس کے قریب گاڑی رکوا کر گرفتار کیا گیا۔ ایمان مزاری اور ہادی چھٹہ متنازعہ ٹویٹ کیس کے ملزم ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ ہائیکورٹ بار سے اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے جہاں صدر ہائیکورٹ بار اور سیکرٹری سمیت دیگر وکلاء بھی ان کے ہمراہ تھے۔

صدر ہائیکورٹ بار واجد گیلانی نے گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے گاڑی کے شیشے توڑے، مجھ سمیت سیکریٹری بار کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل متنازع ٹوئٹ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں ٹرائل کورٹ کا آرڈر کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو موجودہ کیس میں گرفتار نہ کیا جائے۔

واضح رہے کہ سماجی کارکن ہادی علی چٹھہ اور ایمان مزاری کیخلاف این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

این سی سی آئی اے کی جانب سے درج ایف آئی آر کے مطابق ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے تھے۔

ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتا افراد کے معاملات کی ذمہ داری سیکیورٹی فورسز پر عائد کی تھی۔

یہ مقدمہ الیکٹرانک کرائم کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) کی دفعات 9، 10، 11 اور 26 کے تحت درج کیا گیا تھا۔