کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ: شمالی کوریا کی جوہری صلاحیت میں اضافے کا انکشاف

شمالی کوریا میں ایک نئی ایسی تنصیب کی تعمیر کے شواہد بھی ملے ہیں، آئی اے ای اے چیف رافیل گروسی
شائع 15 اپريل 2026 01:14pm

اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا نہ صرف اپنے جوہری پروگرام میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے بلکہ اس کے پاس کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے بڑے ذخائر بھی موجود ہیں، جبکہ یورینیم افزودگی کی نئی تنصیبات اور جوہری سرگرمیوں میں اضافہ خطے کے لیے شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے۔

برطانوی نیوز ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے جنوبی کوریا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شمالی کوریا کے اہم جوہری مرکز یونگبیون سمیت مختلف تنصیبات پر سرگرمیوں میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یونگبیون میں موجود 5 میگاواٹ ری ایکٹر، ری پروسیسنگ یونٹ، لائٹ واٹر ری ایکٹر اور دیگر تنصیبات میں سرگرمی بڑھ گئی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ جوہری پروگرام کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔

آئی اے ای اے کے مطابق شمالی کوریا میں ایک نئی ایسی تنصیب کی تعمیر کے شواہد بھی ملے ہیں جو یورینیم افزودگی کے لیے استعمال ہونے والے یونٹس سے مشابہت رکھتی ہے۔

ایک امریکی تحقیقی ادارے کی رپورٹ میں بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک نئی افزودگی تنصیب تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔

رافائیل گروسی نے کہا کہ شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد ممکنہ طور پر چند درجن کے قریب ہے، تاہم موجودہ سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ صلاحیت مزید بڑھ سکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اب تک ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام میں روسی ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہو، تاہم صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

اسی موقع پر آئی اے ای اے کے سربراہ نے جنوبی کوریا کے نیوکلیئر آبدوز پروگرام پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری ایندھن سے چلنے والی آبدوزوں میں استعمال ہونے والا مواد طویل عرصے تک نگرانی سے باہر رہ سکتا ہے، اس لیے اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ اس کا استعمال کسی بھی طور پر جوہری پھیلاؤ کا باعث نہ بنے۔