برطانیہ میں دلہن پر شادی سے پہلے بھابھی نے سیاہ پینٹ پھینک دیا

واقعے کے بعد دلہن ڈپریشن کا شکار ہو گئی مگر ہمت کر کے شادی مکمل کی۔
اپ ڈیٹ 18 اپريل 2026 06:46pm

برطانیہ میں ایک دلہن کی شادی اس وقت خوفناک واقعے کا شکار ہو گئی جب اس کی بھابھی نے تقریب سے چند لمحے قبل اس پر سیاہ پینٹ پھینک دیا۔ یہ واقعہ ایک طویل خاندانی تنازع کے نتیجے میں پیش آیا۔

امریکی خبر رساں ادارے فوکس نیوز کے مطابق 35 سالہ جیما مونک اپنے بچپن کے ساتھی سے شادی کے لیے بے حد پُرجوش تھیں۔ سفید لباس میں ملبوس، وہ اپنے والد کا ہاتھ تھامے خوشی خوشی شادی ہال کی جانب بڑھ رہی تھیں کہ اچانک کسی نے ان کا نام پکارا۔ وہ رُکیں اور اگلے ہی لمحے سیاہ پینٹ ان کے چہرے اور لباس پر بہہ رہا تھا۔

یہ حملہ کسی اجنبی نے نہیں بلکہ جیما مونک کی اپنی بھابھی نے کیا، جس کے ساتھ خاندانی تنازع کافی عرصے سے جاری تھا۔ خوشیوں سے بھرا لمحہ آنکھوں کے سامنے بکھر گیا، اور جیما صدمے اور آنسوؤں میں ڈوب گئیں۔

جیما مونک نے بتایا کہ حملہ آور ان کی بھابھی انتونیا ایسٹ ووڈ تھیں، جو ان کے بڑے بھائی کی اہلیہ ہیں۔ جیما نے انہیں پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس واقعے نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔ وہ ڈپریشن کا شکار ہو گئیں، کام چھوڑنا پڑا اور اپنی سابقہ خوش گوار شخصیت جیسے کہیں کھو بیٹھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ میری زندگی کا سب سے خوبصورت دن ہونا چاہیے تھا، مگر یہ میری بدترین یاد بن گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید صدمے کے باوجود جیما نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے خود کو صاف کیا، کپڑے بدلے اور آخرکار اسی دن اپنے جیون ساتھی سے شادی کر لی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس دن کا بہت انتظار کیا تھا، میں کسی صورت اسے ادھورا نہیں چھوڑ سکتی تھی۔

تاہم اس واقعے کے اثرات گہرے رہے۔ جوڑا اپنا ہنی مون بھی منسوخ کرنے پر مجبور ہو گیا، جب کہ جیما اب بھی ذہنی دباؤ سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

عدالت میں بیان دیتے ہوئے جیما مونک نے کہا کہ اس واقعے نے ان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ وہ اس کے بعد ڈپریشن میں مبتلا ہو گئی ہیں اور تقریباً دو سال سے کام کرنے کے قابل نہیں رہیں۔ ان کے مطابق اگر ان کے بچے اور خاندان نہ ہوتے تو وہ خود کی دیکھ بھال بھی نہ کر پاتیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب جیما حال ہی میں کینسر کے خدشے سے گزر چکی تھیں، تاہم بعد میں انہیں صحت مند قرار دے دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بھابھی کو ان کی بیماری کا علم تھا لیکن اس کے باوجود انہوں نے ان کی زندگی کے اہم ترین دن کو تباہ کر دیا۔

خاندانی جھگڑا اس وقت شروع ہوا تھا جب ملزمہ کی اپنی شادی میں جیما پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے تقریب میں خلل ڈالنے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد انہیں اس شادی میں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔

مقدمہ عدالت میں گیا تو عدالت نے 49 سالہ انتونیا ایسٹ ووڈ کو مجرمانہ نقصان پہنچانے کے دو الزامات میں 10 ماہ قید کی سزا سنائی، ساتھ ہی انہیں 160 گھنٹے کمیونٹی سروس کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔

جج نے ریمارکس دیے کہ یہ دن جیما اور ان کے خاندان کے لیے خوشی کا موقع ہونا چاہیے تھا، مگر ملزمہ کے عمل نے اسے ڈراؤنا خواب بنا دیا۔ جیما کے مطابق یہ سزا ان کے دکھ کے مقابلے میں ناکافی ہے۔

واقعے کے باوجود جیما مونک نے ہمت نہیں ہاری، انہوں نے کپڑے تبدیل کر کے اور خود کو صاف کرنے کے بعد شادی کی تقریب مکمل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس دن کا طویل عرصے سے انتظار کر رہی تھیں اور کسی صورت اسے ادھورا نہیں چھوڑنا چاہتی تھیں۔