امریکی نمائندے ایران سے مذاکرات کے لیے کل اسلام آباد پہنچیں گے: صدر ٹرمپ

امریکا ایران کو ایک بہترین ڈیل کی پیشکش کر رہا ہے اور انہیں امید ہے کہ تہران اس معاہدے کو قبول کر لے گا
اپ ڈیٹ 19 اپريل 2026 05:58pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کے نمائندے کل شام اسلام آباد جا رہے ہیں جہاں اہم بات چیت کی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں ایران سے متعلق صورتحال پر گفتگو ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر پیغام میں لکھا کہ امریکا ایران کو ایک بہترین اور مناسب ڈیل کی پیشکش کر رہا ہے اور انہیں امید ہے کہ تہران اس معاہدے کو قبول کر لے گا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ پیشکش خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایک ممکنہ سفارتی حل کی طرف پیش رفت کے لیے ہے۔

ٹروتھ سوشل پر جاری کردہ پوسٹ میں انہوں نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایران نے یہ معاہدہ قبول نہ کیا تو نتائج سنگین ہوں گے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ڈیل نہ ہونے کی صورت میں ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے بشمول پلوں کو بھی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔

اپنے بیان میں امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے اعلان کے باوجود امریکا کی ناکہ بندی کے باعث یہ گزرگاہ پہلے ہی بند ہو چکی ہے، جس سے ایران کو روزانہ تقریباً 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جبکہ امریکا کو اس صورتحال سے کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو وہ وہی اقدامات کریں گے جو ان کے بقول ضروری ہوں گے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں لکھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک فرانسیسی بحری جہاز اور برطانیہ کے ایک مال بردار جہاز پر فائرنگ کی گئی جسے انہوں نے اشتعال انگیز اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ایران نے اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی سمندر میں فائرنگ اور جھڑپوں کے واقعات بھی سامنے آئے تھے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز اب مکمل طور پر ایرانی کنٹرول میں ہے اور بعض غیر ملکی جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دی گئی، جن میں قطر کے جہاز بھی شامل تھا۔