وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیرِ خارجہ کی ملاقات، جنگ بندی پر تہران کا مؤقف پیش
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد میں وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور حالیہ جنگ بندی کی صورتِ حال پر تہران کا مؤقف پیش کیا۔ اس ملاقات میں نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک تھے۔
وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ہفتے کے روز پی ایم ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں عباس عراقچی کے ساتھ ایرانی وفد بھی شریک تھا جب کہ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی اس اہم ملاقات میں شرکت کی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اس اعلیٰ سطح ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، مختلف شعبوں میں تعاون، اور علاقائی و عالمی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے پڑوسی ممالک، خصوصاً پاکستان کے ساتھ جامع تعلقات کی مضبوطی کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
رپورٹ کے مطابق عباس عراقچی نے ملاقات میں اس مؤقف کو دہرایا کہ ایران کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کا ایک خصوصی مقام ہے اور تہران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید وسعت دینے کا عزم رکھتا ہے۔
عباس عراقچی نے جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں، جنگ بندی میں سہولت کاری اور اسلام آباد میں اہم مذاکرات کی میزبانی پر حکومتِ پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
اس سے قبل ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے وفد کے ہمراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقات کی تھی۔ جس میں ایرانی وزیرِ خارجہ کے ہمراہ نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی، اسلام آباد میں ایران کے سفیر امیری مقدم اور ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی بھی شریک ہوئے جب کہ پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، مشیر برائے قومی سلامتی جنرل عاصم ملک بھی اس ملاقات میں شریک تھے۔
پاکستان آمد سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ عباس عراقچی کے دورے کا مقصد پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کرنا ہے جس میں پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی اور خطے میں امن کی بحالی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دورے میں ایران اور امریکا کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ہے اور تہران اپنے خدشات پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائے گا۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری اس کشیدگی کے تناظر میں ایک اور اہم سفارتی پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔ ترجمان وائٹ ہاؤس نے امریکی میڈیا کو انٹرویو میں امن مذاکرات میں امریکی وفد کی پاکستان روانگی کی تصدیق کی۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر مقامی وقت کے مطابق ہفتہ کی صبح (پاکستانی وقت کے مطابق ہفتے کی رات) پاکستان کے لیے روانہ ہوں گے۔ تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ ان کا امریکی نمائندوں سے براہِ راست ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ اپنے تحفظات پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے بھی جمعے کو یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران امریکی مطالبات کو پورا کرنے کے لیے کوئی پیشکش تیار کر رہا ہے، تاہم انہوں نے اس متعلق تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے یہ بھی کہا کہ حالیہ دنوں میں مذاکرات کے معاملے پر ایران کی جانب سے پیش رفت دیکھی گئی ہے اور امید ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا، جب کہ نائب صدر جے ڈی وینس بھی پاکستان کے ممکنہ دورے کے لیے تیار ہیں۔
















