امریکا-ایران مذاکرات: صدر ٹرمپ نے وٹکوف اور کشنر کا دورۂ پاکستان منسوخ کر دیا
امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور سے قبل اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عین وقت پر اپنے مذاکراتی وفد کو پاکستان کے دورے سے روک دیا ہے۔
ہفتے کے روز ’فاکس نیوز‘ کی صحافی عائشہ حسنی سے گفتگو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اب ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان نہیں جارہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس جنگ میں امریکا کا پلڑا بھاری ہے، اس لیے امریکی وفد کا 18 گھنٹے کی طویل مسافت طے کر کے پاکستان جانا سود مند نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی جب چاہیں ہمیں کال کرسکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہمارے لوگ روانگی کی تیاری کر رہے تھے، میں نے کچھ دیر قبل انہیں یہ کہہ کہ روک دیا ہے کہ آپ بے مقصد باتوں کے لیے اتنی طویل مسافت کا سفر نہ کریں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس تمام ’کارڈز‘ موجود ہیں، وہ جب چاہیں ہمیں کال کر سکتے ہیں‘۔
امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے ہمیں ایک کاغذ دیا تھا، اس میں جو چیزیں تھیں وہ بہتر ہونی چاہئے تھیں، جب میں نے اسے مسترد کیا تو 10 منٹ میں نیا پرچہ آگیا، یہ پرچہ پہلے سے کہیں بہتر تھا، ہم نے یہ بات کی کہ ان کے پاس نیوکلیئر ہتھیار نہیں ہوگا، یہ ڈیل کوئی اتنی پیچیدہ نہیں ہے، سادہ سی بات ہے، ایران نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنا سکتا۔
اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنے نمائندوں کا اسلام آباد کا دورہ اس لیے منسوخ کیا کیونکہ ایرانی قیادت کے اندر شدید اختلافات اور ابہام پایا جاتا ہے اور یہ واضح نہیں کہ اصل اختیار کس کے پاس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طویل سفر کے باوجود کسی نتیجے تک پہنچنے کے امکانات کم تھے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ہم کرپٹو اور اے آئی میں سب سے آگے ہیں، کرپٹو انڈسٹری ایک دن مین اسٹریم میں آجائے گی۔
خیال رہے کہ ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا اب ان افراد سے بات کر رہا ہے جو اصل اختیار رکھتے ہیں، تاہم اس سے پہلے انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ ایرانی قیادت کے حوالے سے مکمل وضاحت موجود نہیں۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے تصدیق کی تھی کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد جائیں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی ہفتے کے روز اسلام آباد پہنچے تھے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیں کیں اور واپس روانہ ہوگئے۔















