محسن نقوی کی تہران میں ایرانی ہم منصب سے ملاقات، امن مذاکرات کی بحالی کے امکانات پر گفتگو
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے ملاقات کی ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے میں امن مذاکرات کی بحالی کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔
تہران میں ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور پاکستان کے وزیر داخلہ سید محسن نقوی کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات اور خصوصاً سرحدی تجارت، ٹرانزٹ اور اشیاء کے تبادلے کو آسان بنانے سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پاک ایران تعلقات، خطے میں امن و استحکام اور امن مذاکرات کی بحالی کے امکانات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسکندر مومنی نے محسن نقوی کے ایران کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں دوسری مرتبہ ایران آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستانی حکومت اور عوام کے دوستانہ رویے پر شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر اسکندر مومنی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل مشترکہ سرحد کو باہمی تعاون سے مزید محفوظ اور معاشی طور پر فائدہ مند بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے سرحدی علاقوں میں سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے تاکہ دوستی، اتحاد اور برادرانہ روابط مزید مضبوط ہوں۔
ایرانی وزیر داخلہ نے کہا کہ ایران اور پاکستان کی حکومتوں اور عوام کے درمیان ایک دوسرے کے بارے میں مثبت سوچ پائی جاتی ہے، جو خطے میں تعلقات کی مضبوطی کی علامت ہے۔ انھوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔ اسکندر مومنی نے ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے حل کے لیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی کوششوں کی بھی تعریف کی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی میزبان ایرانی وزیر داخلہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی سیکیورٹی، تجارت اور دوطرفہ تعلقات سے متعلق معاملات پر قابلِ عمل حل نکالے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران اور پاکستان تعلقات سے متعلق امور کو ایران کے دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ اپنی آئندہ ملاقاتوں میں مزید سنجیدگی سے آگے بڑھائیں گے۔
ذرائع کے مطابق اپنے دورے کے دوران محسن نقوی کی ایرانی قیادت کے ساتھ مزید ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، جن میں خطے کی مجموعی صورتِ حال اور ایران اور سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال جاری رہے گا۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی حالیہ عرصے میں خطے کی سلامتی اور عالمی توانائی منڈی پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ پاکستان خطے میں استحکام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور مذاکرات کی حمایت کرتا آیا ہے۔
9 سے 11 مئی کے دوران قطر اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات برقرار رہے۔ ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز میں آبنائے ہرمز پر خودمختاری اور جنگی نقصانات کے ازالے جیسے مطالبات شامل تھے، جنہیں امریکا نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد تہران پہنچا تھا۔ وفد میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی فیلڈ مارشل کے ہمراہ تھے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے دورۂ ایران کے دوران ایران کی اعلٰی قیادت سے اہم ملاقاتیں کی تھیں، جسے خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت دی گئی۔















