روسی صدر کی مشکل وقت میں تقسیم نہ ہونے پر ایران کی تعریف

ایران میں قومی یکجہتی اور ریاستی اداروں کے ساتھ عوامی وابستگی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے: پیوٹن
شائع 06 جون 2026 09:05am

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کی داخلی صورت حال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو اس بات کا کریڈٹ دیا جانا چاہیے کہ وہ اندرونی طور پر تقسیم نہیں ہوا، بلکہ ایرانی معاشرہ مسلسل مضبوطی کی جانب گامزن ہے۔

سینٹ پیٹرزبرگ میں عالمی خبر رساں اداروں کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے کہا کہ ایرانی قیادت کی جانب سے جب عوام سے ملک کے لیے قربانی دینے کی اپیل کی گئی تو لاکھوں افراد نے اس پر مثبت ردعمل دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران میں قومی یکجہتی اور ریاستی اداروں کے ساتھ عوامی وابستگی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔

روسی صدر کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت نے عوام سے کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑے تو ملک کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کریں، جس پر تقریباً 50 لاکھ افراد نے خود کو پیش کیا، جبکہ لاکھوں ایرانیوں نے جان قربان کرنے کے لیے لبیک کہا۔

ولادیمیر پیوٹن نے مزید کہا کہ یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ نہ تو ایران نے کبھی روس سے اسلحہ مانگا اور نہ ہی روس نے کبھی ایران کو اسلحہ فراہم کیا۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون اس نوعیت کا رہا ہے۔

روسی صدر نے اپنے بیان میں ایرانی عوام کے عزم اور یکجہتی کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کا معاشرہ کمزور ہونے کے بجائے مزید مضبوط اور منظم ہو رہا ہے، جو ملک کی داخلی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کا کہنا تھا کہ ایران کے گرد جاری تنازع اب ایک عالمی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کے باعث امریکا کی توجہ یوکرین جنگ سے ہٹ کر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر مرکوز ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین کا بحران ایک مقامی نوعیت کا مسئلہ ہے جبکہ ایران کے گرد پیدا ہونے والی صورت حال عالمی نوعیت اختیار کر چکی ہے۔ ان کے مطابق امریکا اس وقت بنیادی طور پر اسی مسئلے سے نمٹنے پر مجبور ہے۔

روسی صدر نے امید ظاہر کی کہ امریکی صدر ٹرمپ کی کوششیں اور ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی پالیسیاں کسی مفاہمتی حل تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ یہ کوششیں مثبت نتائج دیں گی، تنازع ختم ہوگا اور اس کا حل نکالا جائے گا۔ اگر روس کسی بھی طرح مدد کر سکتا ہے تو ہم ہمیشہ تعاون کے لیے تیار ہیں۔

پیوٹن نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کے حل کے لیے سفارتی راستے کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے تجویز دی کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو بین الاقوامی نگرانی میں کم افزودہ کر کے پرامن جوہری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں اس یورینیم کو کم افزودہ کر کے ایران کے پرامن جوہری پروگراموں میں استعمال کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ یہ عمل بین الاقوامی برادری اور عالمی ایٹمی انرجی ایجنسی کی نگرانی میں ہو۔

روسی صدر نے ایران کو ایک دوست ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس اور ایران کے درمیان قریبی اور بااعتماد تعلقات موجود ہیں۔ تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ماسکو اس تنازع سے توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ذریعے فائدہ اٹھا رہا ہے۔

صدر پیوٹن نے گفتگو میں مزید کہا کہ ایران اور آبنائے ہرمز کے گرد رونما ہونے والے واقعات نے فلسطین کے مسئلے کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے، تاہم یہ مسئلہ اب بھی برقرار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اور آبنائے ہرمز کے گرد پیش آنے والے واقعات کے باعث فلسطین کا المیہ کسی حد تک نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے، لیکن یہ مسئلہ کہیں نہیں گیا اور بدستور موجود ہے۔