ایران نے اسرائیل کے خلاف حملے روک دیے، اسرائیل بھی امریکی درخواست پر رضا مند

جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں تو اس سے کہیں زیادہ سخت اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں گے: ایران
اپ ڈیٹ 08 جون 2026 07:39pm
اے آئی جنریٹڈ
اے آئی جنریٹڈ

ایرانی مسلح افواج کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں فی الحال معطل کر دی ہیں، جب کہ اسرائیلی حکام نے امریکا کی درخواست پر ایران کے خلاف حملے روکنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ تاہم ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی حملے، خصوصاً جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رہیں تو اس سے کہیں زیادہ سخت اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں گے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ اسرائیل کے خلاف فوجی آپریشنز عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں، تاہم اسرائیلی حملوں کے تسلسل کی صورت میں کارروائیاں دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں۔

’سی این این‘ کے مطابق اسرائیل نے امریکا کی درخواست پر ایران کے خلاف فضائی حملے عارضی طور پر روکنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم جنوبی لبنان میں عسکری کارروائیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان، جسے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ نے شائع کیا، اس میں کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت ور مسلح افواج نے مظلوم لبنانی عوام کی حمایت میں اسرائیل کو ’’دردناک جواب‘‘ دیا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر اسرائیل کی جانب سے جارحیت اور دشمنانہ کارروائیاں، بالخصوص جنوبی لبنان میں حملے، جاری رہے تو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ ایرانی فوج کے مطابق حالیہ کارروائیاں لبنان کی حمایت اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں کی گئیں، جب کہ آئندہ ردعمل کا انحصار اسرائیل کے طرزِ عمل پر ہوگا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب لبنان میں جنگ بندی کی کوششوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی جانب سے حملے جاری ہیں اور ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کا خاتمہ خطے میں وسیع تر کشیدگی کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

اسی دوران ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ملک کی ترجیح ’قومی سلامتی اور عوام کا امن‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی خطرے کے سامنے پسپائی اختیار نہیں کرے گا اور نہ ہی انھوں نے میدان چھوڑا ہے اور نہ ہی مذاکرات کی میز۔

یہ بیان ایران کی اعلیٰ عسکری کمان خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کی جانب سے اپنی ’مسلح افواج کی کارروائیوں‘ کے خاتمے کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔

واضح رہے کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی حملوں کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پیر کی علی الصبح دونوں ممالک کے درمیان میزائل حملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جب کہ یمن کے حوثی باغیوں نے بھی اسرائیل پر میزائل داغنے اور بحیرہ احمر میں اسرائیل سے وابستہ جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔

تازہ کشیدگی کے بعد دونوں ممالک نے ہنگامی حفاظتی اقدامات بھی کیے ہیں۔ ایران نے تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے اطراف فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کر دیا، جب کہ اسرائیل نے ملک بھر میں اسکول بند کرنے اور بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ مزید حملوں سے گریز کریں۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ ایران اور اسرائیل کو فوری طور پر ایک دوسرے پر حملے اور فائرنگ روک دینی چاہیے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ دونوں فریقین فوری سیزفائر کی طرف بڑھ رہے ہیں اور امن معاہدے پر بات چیت آخری مراحل میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے لیکن بعض رکاوٹیں عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی واضح کیا کہ جب تک فائنل ڈیل طے نہیں ہو جاتی، موجودہ بلاکڈ یا پابندیاں مکمل طور پر برقرار رہیں گی۔

امریکی صدر کے بیان کے بعد پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ امن کے حصول کے لیے تحمل کا مظاہرہ کریں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حتمی مقصد حاصل ہونے کے قریب ہو۔

ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں تشدد میں حالیہ اضافہ اس خطرے کی واضح یاد دہانی ہے جو ایک نازک جنگ بندی سے وابستہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ناقابلِ برداشت نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب ہم فریقین کے ساتھ مل کر اس تنازع کے پرامن سفارتی حل کے لیے سنجیدگی اور مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں اور خاص طور پر ایسے وقت میں جب حتمی مقصد حاصل ہونے کے قریب ہو، تو ہم خلوصِ دل سے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور امن کو ایک اور موقع دینے کی اپیل کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ایک اہم ثالث ہے، پاکستان کی ثالثی میں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان مذاکرات کا ایک دور 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا۔ اسلام آباد نے اسی ماہ کے آخر میں ایک اور مذاکراتی دور کے لیے تیاری بھی کی تھی تاہم یہ نہیں ہو سکا تھا۔