امن معاہدے پر دستخط سے قبل حکام پڑوسی ممالک کے دورے کریں گے: ایران
ایران نے لبنان کو امن معاہدے کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ لبنان میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر ہے، سوئٹزرلینڈ میں امن معاہدے سے قبل ایرانی حکام علاقائی ممالک کے دورے کریں گے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ معاہدے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم جرائم کو معاف کردیں گے یا بھول جائیں گے، امریکا کو ہمارا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ابھی ایک طویل راستہ طے کرنا ہوگا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جنگ کے دوران ایرانی عوام نے استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی حکومت، فوج اور قیادت کا بھرپور ساتھ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا مسودہ تیار ہو چکا ہے جب کہ معاہدے کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پیر کو تہران میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس جنگ کے دوران ایران کے کئی اعلیٰ رہنما شہید ہوئے، جسے ایرانی قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی، ہم نے قربانیاں دیتے ہوئے اپنے وطن کا دفاع کیا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ 110 دن تک جاری رہنے والے حالات میں ایرانی عوام نے اپنی حکومت اور فوج کا بھرپور ساتھ دیا اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں اپنی قیادت کو کھونے کے باوجود عوام اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے رہے۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران اسرائیل اور امریکا کی جانب سے کیے گئے مظالم کو نہیں بھولے گا جب کہ شہید ہونے والے ایرانیوں کو خراجِ عقیدت اور سلام پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا مسودہ تیار ہو چکا ہے تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ معاہدہ آئندہ کس طرح آگے بڑھتا ہے۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران کو اپنے عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے، گزشتہ 24 گھںٹوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، ایران، امریکا معاہدہ آخری مراحل میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دستخط سے پہلے ایرانی حکام پڑوسی ممالک کے دورے کریں گے، معاہدے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جرائم کو معاف کردیں گے یا بھول جائیں گے، ہم نہیں بھولیں گے کہ ہم نے بڑی تعداد میں اپنی قیادت کھوئی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت کو ایرانی عوام کا بھروسہ دوبارہ حاصل کرنے کے لیے طویل سفر طے کرنا ہوگا، جنگ لبنان سمیت تمام محاذوں پر ختم ہونی چاہیے، ایران اور امریکا میں بداعتمادی کئی دہائیاں پرانی ہے، منجمد اثاثوں پر ایران کا حق ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ لبنان پر حملوں کا خاتمہ امریکا اور ایران معاہدے کا حصہ ہے، مفاہمتی یاد داشت پر جمعے کو سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں دستخط ہوں گے۔ مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کے میکنزم کو آج یا کل فائنل کیا جائے گا، میکنزم کو فائنل کرنے کے بعد اس کا اعلان کیا جائے گا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ اسرائیل خطے میں امن نہیں چاہتا، لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، لبنان کی خود مختاری کا احترام کیا جائے، لبنان کی خود مختاری کے لیے واضع قانونی فریم ورک بننا چاہیے، لبنان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام عبوری معاہدے کا حصہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ادارے ایران پر امریکا اور صیہونی جارحیت کی مذمت کرنے میں ناکام رہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور معاہدے کو حتمی شکل دینے میں پاکستان اور قطر نے اہم سفارتی کردار ادا کیا جب کہ مختلف سطحوں پر مذاکرات اور رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔
پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں ایک اہم پل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان نے اپریل میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان براہِ راست ملاقاتوں کی میزبانی کی تھی۔
پاکستانی حکام نے امریکا اور ایران کے درمیان امن تجاویز اور جوابی تجاویز کی منتقلی میں کردار ادا کیا جب کہ جاری جنگ بندی پر اتفاق رائے پیدا کرنے اور اسے توسیع دینے کے لیے بھی سفارتی کوششیں کیں۔
پاکستان کے امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کی قیادت اور ریاستی اداروں نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف سطحوں پر روابط برقرار رکھے۔
پاکستان دنیا میں ایران کے بعد شیعہ مسلمانوں کی بڑی آبادی رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک کے برعکس پاکستان میں امریکا کے فوجی اڈے موجود نہیں ہیں، جس کے باعث اسے دونوں ممالک کے درمیان رابطے کے لیے ایک موزوں فریق سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب قطر نے بھی معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے ہفتے کے روز اپنے پاکستانی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور مذاکراتی عمل میں اسلام آباد کے کردار کی حمایت کا اظہار کیا۔
قطر کے حکام نے بھی تہران میں ایرانی حکام کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کیں تاکہ فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔
گزشتہ ہفتے معاملے سے آگاہ ایک ذریعے نے بتایا تھا کہ امریکی حکام کا خیال ہے کہ تہران میں ایرانی اور قطری حکام کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں سے امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے میں موجود بعض اہم اختلافی نکات کو حل کرنے میں مدد ملی۔
ذرائع کے مطابق معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے قطری مذاکرات کار گزشتہ روز تہران بھی پہنچے، جہاں انہوں نے فریقین کے درمیان رابطوں اور بات چیت کو آگے بڑھانے میں معاونت فراہم کی۔














