ایران کے سپریم لیڈر نے امریکا سے مفاہمتی یادداشت کی توثیق کر دی
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی توثیق کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے کے باوجود یہ فیصلہ قومی مفاد اور ذمہ داری کے تحت کیا گیا۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایک اہم پیش رفت ہے، جس تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کاروں نے مخلصانہ اور وسیع کوششیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم کی استقامت اور وفاداری قابلِ ستائش ہے اور وہ اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے دعاگو ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق اصولی طور پر ان کی ذاتی رائے مختلف تھی، تاہم قومی سلامتی کونسل کے چیئرمین اور ایرانی صدر کی جانب سے دی گئی یقین دہانیوں اور ذمہ داریوں کے بعد انہوں نے معاہدے کی توثیق کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ ذمہ داری ایرانی قوم اور مزاحمتی محاذ کے حقوق کے تحفظ کے لیے دی گئی تھی، جسے انہوں نے قومی مفاد میں قبول کیا۔
سپریم لیڈر نے کہا کہ ایرانی حکام نے خیرسگالی اور قومی مفاد کے لیے بھرپور کوششیں کیں اور معاہدے تک پہنچنے کے لیے وسیع اقدامات کیے گئے۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مایوسی کے عالم میں ہر ممکن حربہ استعمال کیا، تاہم مذاکراتی عمل جاری رہا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے واضح کیا کہ ایران نے پورے مذاکراتی عمل میں قومی مفادات کو مقدم رکھا اور ہر فیصلہ اسی اصول کے تحت کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی مذاکرات کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ ایران دوسرے فریق کا مؤقف بلا شرط تسلیم کرے گا۔













