پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا آغاز

پاکستان کی کوششوں سے امریکا اور ایران ایک دہائی بعد پہلی بار براہِ راست آمنے سامنے بیٹھے ہیں
اپ ڈیٹ 11 اپريل 2026 09:54pm

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے براہِ راست مذاکرات اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں جاری ہیں۔ پاکستان کی ثالثی میں دونوں ملک ایک دہائی بعد آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کر رہے ہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد ابتدائی طور پر مذاکرات کی نوعیت کے بارے میں ابہام پایا جارہا تھا کہ یہ بات چیت ثالثوں کے ذریعے ہوگی یا فریقین آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ تاہم پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن ’پی ٹی وی‘ کے علاوہ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (آئی آر این اے) نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی تصیق کی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اسلام آباد مذاکرات کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان نصف صدی میں اعلیٰ ترین سطح کی بیٹھک قرار دیا ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اہم ترین ملاقات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے ایران کی پارلیمنٹ اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔

رائٹرز نے ایک ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ملاقات میں دونوں فریقین کے درمیان ’موڈ سوئنگز‘ دیکھے گئے اور ماحول کبھی سخت اور کبھی نسبتاً نرم ہوتا رہا۔

رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے۔ یہ مذاکرات تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہے، جس کے بعد دونوں وفود نے وقفہ لیا ہے۔

ایرانی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق مذاکرات کا عمل اب ’ایکسپرٹ فیز‘ میں داخل ہو چکا ہے، اور ایرانی وفد کی تکنیکی کمیٹیوں کے متعدد ارکان بھی مذاکرات کے مقام پر موجود ہیں۔

اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل 2015 میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ایران کے جوہری پروگرام پر ایک تاریخی معاہدہ طے پایا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا جب ان دونوں ممالک کے نمائندے براہِ راست آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ تاہم اس معاہدے کو 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر ختم کرنے کے بعد ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

جوہری معاہدے کے خاتمے کے بعد ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات پر پابندی عائد کر دی تھی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست سفارتی تعلقات محدود ہوگئے تھے۔

امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں جاری مذاکرات کی کوریج کے لیے کئی ملکوں کے صحافی اور مندوبین جناح کنونشن سینٹر میں موجود ہیں۔ اس اہم ترین معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے وفاقی وزارتِ اطلاعات صحافیوں کو براہِ راست رسائی دینے کے بجائے مذاکرات کی پیش رفت سے وقتاً فوقتاً آگاہ کر رہا ہے۔

اسلام آباد مذاکرات سے قبل عمان کی ثالثی میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے تھے۔ پہلا دور اپریل 2025 میں مسقط میں ہوا، جس میں امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف جب کہ ایران کی جانب سے عباس عراقچی شریک ہوئے تھے۔

فریقین کے درمیان فروری 2026 کے وسط میں بھی عمان کی ثالثی میں جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات ہوئے تھے جس میں شرکاء نے جوہری پروگرام سے متعلق بنیادی اصولوں پر کسی حد تک اتفاق کیا تھا۔ تاہم 28 فروری کو جنیوا مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کردیا تھا۔

ایران نے حملوں کے بعد فوری طور پر آبنائے ہرمز کو بند کیا اور اسرائیل سمیت خطے میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ مشرقِ وسطیٰ میں 40 روز تک یہ جنگ جاری رہی۔

اس دوران پاکستان نے سفارتی کوششوں سے پہلے فریقین کو دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادہ کیا اور دونوں کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں بیٹھک سجائی۔