پسینے، تیل اور مردہ کھال سے بھرے اپنے پرانے گدے کو کیسے صاف کریں؟

صاف اور خشک گدا نہ صرف بہتر نیند دیتا ہے بلکہ مجموعی صحت کو بھی بہتر رکھتا ہے۔
شائع 15 اپريل 2026 12:54pm

میٹرس یا گدے کی صفائی صرف ظاہری چمک دمک کے لیے نہیں بلکہ صحت مند زندگی کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔

بستر ہمیں دن بھر کی تھکن کے بعد آرام فراہم کرتا ہے اگرچہ یہ بظاہر صاف نظر آتا ہے، لیکن دی گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق، انسانی جسم نیند کے دوران پسینہ، تیل اور لاکھوں مردہ خلیات خارج کرتا ہے، جو وقت کے ساتھ گدے کے اندر جذب ہو کر بیکٹیریا اور گرد کے ذرات کی آماجگاہ بن جاتے ہیں۔

اس سے نہ صرف ہماری نیند میں خلل پڑتا ہے بلکہ صحت کو بھی نقصان پہنچتا ہے، کیونکہ یہ عناصر الرجی، دمہ اور سانس کی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اپنے گدے کو ہر چھ ماہ بعد صاف کرنا چاہیے تاکہ الرجی، دمہ اور جلد کی بیماریوں سے بچا جا سکے۔ یہاں میٹرس کو صاف اور محفوظ رکھنے کے چند آسان اور موثر طریقے درج ہیں۔

بستر کی مکمل صفائی

بیڈ کی چادریں، تکیے کے غلاف اور میٹرس پروٹیکٹر اتار کر انہیں گرم پانی میں دھوئیں۔

کھڑکیاں کھول دیں تاکہ تازہ ہوا کے گزر سے گدے میں موجود نمی ختم ہو سکے۔ اس کے بعد ویکیوم کلینر کی مدد سے گدے کے کونوں اور جوڑوں سے دھول مٹی صاف کریں۔

اگر گدے میں اون یا قدرتی فائبر استعمال ہوا ہو توویکیوم کلینر استعمال نہ کریں کیونکہ اس کی طاقتور سکشن ریشوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس کے بجائے نرم برش کا استعمال کریں۔

بدبو کا خاتمہ: بیکنگ سوڈا کا جادو

اگر گدے سے ناگوار بو آ رہی ہو تو اس پر ’بیکنگ سوڈا‘ چھڑک دیں اور چند گھنٹوں یا بہتر ہے کہ پوری رات کے لیے چھوڑ دیں۔ یہ سوڈا نمی اور بو کو جذب کر لے گا۔ بعد میں اسے برش یا ویکیوم سے صاف کر لیں۔

ضدی بدبو کے لیے سفید سرکہ اور پانی کا ہلکا سپرے بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن دھیان رہے کہ گدا زیادہ گیلا نہ ہو۔

ماہرین کے مطابق بیکنگ سوڈا کو رگڑ کر استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے گدے کے کپڑے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

داغ دھبوں کی صفائی کے طریقے

اگر گدے پر داغ یا نشان موجود ہوں تو انہیں ہلکے صابن والے پانی سے صاف کیا جا سکتا ہے۔ ایک حصہ لیکویڈ صابن کو چار حصے نیم گرم پانی میں ملا کر کپڑے کو ہلکا گیلا کیا جائے اور داغ کو آہستگی سے صاف کیا جائے۔

صفائی ہمیشہ داغ کے باہر سے اندر کی طرف کی جانی چاہیے تاکہ داغ پھیل نہ سکے۔ اس کے بعد صاف پانی سے ہلکا سا کپڑا گیلا کر کے دوبارہ صفائی کی جائے، لیکن اس بات کا خیال رکھا جائے کہ گدا زیادہ گیلا نہ ہو۔

کچھ ماہرین قدرتی طریقے کے طور پر بیکنگ سوڈا، نمک، لیموں اور پانی کا پیسٹ بھی استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

اس پیسٹ کو تقریباً 30 منٹ تک داغ پر لگا رہنے دیا جائے اور پھر صاف کپڑے سے ہٹا دیا جائے۔

اس کے علاوہ پالتو جانوروں کے داغ اور بدبو کے لیے مخصوص انزائم اسپرے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں جو پروٹین کو توڑ کر بدبو ختم کرتے ہیں۔

میموری فوم گدوں پر پانی یا زیادہ لیکویڈ استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ اندر نمی کو جذب کر لیتے ہیں اور انہیں مکمل خژک ہونے میں بہت وقت درکار ہوتاہے، جس سے پھپھوندی پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ایسے گدوں کے لیے ہلکی صفائی اور مخصوص طریقے بہتر ہیں، جیسے کہ شیو کرنے والا فوم چھوٹے داغوں پر استعمال کرنا، کیونکہ اس میں کم پانی ہوتا ہے اور یہ آسانی سے صاف ہو جاتا ہے۔

صفائی کے بعد سب سے اہم مرحلہ گدے کو مکمل خشک کرنا ہے۔ گدے کو کم از کم 24 سے 48 گھنٹے تک کھلی ہوا اور دھوپ میں رکھنا چاہیے تاکہ اندر کوئی نمی باقی نہ رہے۔

اگر ممکن ہو تو اسے سیدھا کھڑا کر کے ہوا دار جگہ پر رکھا جائے اور پنکھے یا دھوپ کی مدد لی جائے۔

مکمل خشک کیے بغیر بستر دوبارہ استعمال کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے بدبو اور پھپھوندی پیدا ہو سکتی ہے۔

ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ گدے کی گہری صفائی ہر چھ ماہ بعد ضرور کی جائے، جبکہ چادریں ہر ہفتے تبدیل کرنا چاہیے۔

اگر گھر میں پالتو جانور ہوں، دھواں ہو، یا الرجی کے مریض ہوں تو صفائی زیادہ بار کرنا ضروری ہے۔

اس کے علاوہ گدے کو صاف رکھنے کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ روزانہ بستر کو ہلکا سا سیدھا کیا جائے اور اسے ہوا لگنے دی جائے، کیونکہ بند اور نم ماحول میں ڈسٹ مائٹس تیزی سے بڑھتے ہیں۔

صاف اور خشک بستر نہ صرف بہتر نیند دیتا ہے بلکہ مجموعی صحت کو بھی بہتر رکھتا ہے۔