امریکی یوٹیوبر کو جنوبی کوریا میں جیل ہوگئی، قصور کیا تھا؟

یوٹیوبر کو کمرہ عدالت سے ہی فوری طور پر حراست میں لے کر جیل منتقل کر دیا گیا۔
شائع 16 اپريل 2026 10:18am

جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے ’جانی صومالی‘ کے نام سے مشہور امریکی یوٹیوبر رمزی خالد اسماعیل کو متنازع اور اشتعال انگیز ویڈیوز بنانے کے جرم میں 6 ماہ قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ اس کے ایسے اقدامات کے بعد دیا جنہوں نے ملک بھر میں شدید غم و غصے کو جنم دیا تھا۔

امریکی بین الاقوامی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق 25 سالہ یوٹیوبر نے جنوبی کوریا میں قیام کے دوران متعدد ایسی ویڈیوز لائیو اسٹریم کیں جن سے کوریائی عوام کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی۔

ان کی سب سے زیادہ متنازع حرکت جنگِ عظیم دوم کے دوران جنسی غلامی کا شکار ہونے والی خواتین کی یادگار پر ڈانس کرنا اور نازیبا حرکات کرنا تھا۔ اگرچہ انہوں نے بعد میں معافی بھی مانگ لی تھی، لیکن کوریائی عوام اور قانون نے انہیں معاف نہیں کیا۔

۔

عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا قرار دیا کہ یو ٹیوبر نے صرف ویوز اور پیسہ کمانے کے لیے جان بوجھ کر عوامی جذبات کو مجروح کیا اور سوشل میڈیا پر جنوبی کوریا کے قوانین اور سماجی اقدار کا مذاق اڑایا۔

ان کے خلاف مزید الزامات میں عوامی مقامات پر ہنگامہ آرائی، کھانے کی میزوں پر نوڈلز الٹنا، بسوں اور سب ویز میں مسافروں کو ہراساں کرنا، غیر اخلاقی اور جعلی ویڈیوز پھیلانا شامل ہیں۔

۔

استغاثہ نے ملزم کے لیے 3 سال قید کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے تمام شواہد اور ان کے رویے کو دیکھتے ہوئے 6 ماہ قید اور فوری حراست کا حکم جاری کیا اور ملک سے فرار ہونے کے خدشے کے پیشِ نظر انہیں کمرہ عدالت سے ہی فوری طور پر حراست میں لے کر جیل منتقل کر دیا گیا۔

سماعت کے دوران یوٹیوبر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپنے اقدامات پر افسوس کا اظہار کیا اور جنوبی کوریا کے عوام سے معافی بھی مانگی۔

یہ کیس سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے کے لیے کیے جانے والے غیر ذمہ دارانہ اقدامات پر ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔