فلسطین کے ’منڈیلا‘ خطرے میں: اسرائیلی جیل میں مروان برغوثی پر کتے چھوڑ دیے گئے، بیہوشی تک تشدد

عالمی شخصیات کا مروان برغوثی کی رہائی کا پرزور مطالبہ
شائع 16 اپريل 2026 10:43am

فلسطین کے نیلسن منڈیلا کہلانے والے معروف رہنما مروان برغوثی کو اسرائیلی جیلوں میں شدید خطرات کا سامنا ہے، ان کے وکیل کے مطابق حالیہ ہفتوں میں مروان پر تین بار حملہ کیا گیا ہے۔

ان حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے وکیل بن مارمریلی نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ماہ ایک واقعے میں جیل کے محافظوں نے 66 سالہ مروان برغوثی پر کتا چھوڑ دیا تھا۔

مروان برغوثی ایک ایسی شخصیت ہیں جنہیں تمام فلسطینی گروہوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور وہ طویل عرصے سے دو ریاستی حل کے حامی رہے ہیں، لیکن ان کی قید کو اب 24 سال مکمل ہو چکے ہیں۔

مروان برغوثی کے وکیل بن مارمریلی نے جیل میں ملاقات کے بعد جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ فلسطینی رہنما کو منظم طریقے سے بدسلوکی، تشدد اور طبی غفلت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے ان کی زندگی کو فوری خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

وکیل کے مطابق 25 مارچ کو مجدو جیل میں محافظوں نے مروان برغوثی کے سیل میں کتا چھوڑا جس نے ان پر بار بار حملہ کیا، جبکہ 8 اپریل کو انہیں اس قدر شدید زدوکوب کیا گیا کہ وہ دو گھنٹے تک خون میں لت پت پڑے رہے اور انہیں طبی امداد بھی فراہم نہیں کی گئی۔

وکیل کا کہنا ہے کہ ان تمام تر مظالم کے باوجود مروان برغوثی کا ذہن بالکل صاف اور توجہ جیل سے باہر کے حالات پر مرکوز ہے۔

اس قید کے 24 سال مکمل ہونے پر عالمی سطح پر ان کی رہائی کی مہم میں تیزی آگئی ہے۔

کیٹ بلانچیٹ، برائن ایڈمز اور ڈان چیڈل جیسی مشہور عالمی شخصیات نے ان کی رہائی کے مطالبے پر دستخط کیے ہیں۔

مروان برغوثی کے بیٹے عرب برغوثی نے ان فنکاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح فنکاروں اور موسیقاروں نے جنوبی افریقہ میں منڈیلا کی آزادی اور نسلی امتیاز کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا تھا، مجھے امید ہے کہ وہ مروان اور فلسطین کے لیے بھی وہی کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج ہمیں ان آوازوں کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے تاکہ امید کو عمل میں بدلا جا سکے۔

مروان برغوثی پر قتل کے الزامات کے تحت چلائے جانے والے مقدمے کو قانونی ماہرین نے ہمیشہ سے ناقص قرار دیا ہے۔

خود نیلسن منڈیلا نے 2002 میں مروان برغوثی کے وکیل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو کچھ برغوثی کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ بالکل وہی ہے جو میرے ساتھ ہوا تھا۔

ان کے بقول حکومت نے مجھ پر مقدمہ چلا کر افریقن نیشنل کانگریس کی جائز سیاسی جدوجہد کو غیر قانونی ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔

اسرائیل نے قیدیوں کے تبادلے کے دوران مروان برغوثی کو رہا کرنے کے مطالبات ہمیشہ مسترد کیے ہیں، جبکہ حالیہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ اسرائیلی جیلوں میں قیدیوں کو پیٹ بھر کر کھانا بھی نہیں دیا جا رہا۔

وکیل بن مارمریلی نے مروان برغوثی سے ہونے والی حالیہ ملاقات کے بارے میں بتایا کہ انہیں شیشے کی دیوار کے پیچھے بٹھایا گیا تھا اور فون کام نہ کرنے کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو چیخ کر اپنی بات پہنچانے پر مجبور تھے۔

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ جب تک مروان برغوثی اسرائیلی جیل میں ہیں، ان کی حفاظت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی، اس لیے ان کی فوری رہائی ہی واحد حل ہے۔

دوسری طرف بیت لحم میں فلسطینی فنکاروں نے مروان برغوثی کی قید کے برسوں کو یاد کرنے کے لیے دیوارِ فاصل پر ان کی تصویر بھی بنائی ہے تاکہ دنیا کو ان کی جدوجہد کی یاد دلائی جا سکے۔