امریکی کانگریس اسرائیل پر غصہ، دفاعی ہتھیاروں کے لیے امریکی امداد کی مخالفت
امریکا میں کانگریس کے اندر اسرائیل کے لیے حمایت میں واضح کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں ڈیموکریٹک پارٹی کے متعدد ارکان اب اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد، حتیٰ کہ دفاعی نظام کے لیے فنڈنگ کی بھی مخالفت کر رہے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ’ایکسیوس‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس میں اسرائیل اور ڈیموکریٹس کے درمیان تعلقات میں تیزی سے بگاڑ پیدا ہو رہا ہے، اور اب صورتحال یہ ہے کہ کئی ارکانِ کانگریس اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد کی مخالفت کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹ رہنما ریپریزنٹیٹو میکسویل فراسٹ نے کہا ہے کہ چار سال پہلے تک اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام ’آئرن ڈوم‘ کی مخالفت کو انتہائی غیر معمولی سمجھا جاتا تھا، مگر اب یہ سوچ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
دیگر ڈیموکریٹ ارکان جیسے جم میک گورن، جیرڈ ہفمین اور مارک پوکن نے بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو مزید فوجی امداد کی حمایت نہیں کر سکتے، اور بعض نے مؤثر جوابدہی نہ ہونے پر سوالات اٹھائے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2021 میں اسی ’آئرن ڈوم‘ فنڈنگ کے حق میں 200 سے زائد ڈیموکریٹس نے ووٹ دیا تھا، تاہم اب اسی ایوان میں اس حمایت میں واضح تقسیم نظر آ رہی ہے۔
امریکی کانگریس کی پروگریسو ونگ کی کئی شخصیات کا کہنا ہے کہ عوامی رائے تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور اسرائیل کو دی جانے والی امریکی امداد پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بعض ارکان کے مطابق یہ معاملہ اب امریکی داخلی سیاست اور انتخابات میں بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔
تاہم کانگریس کے کچھ ارکان اب بھی اسرائیل کی حمایت جاری رکھنے کے مؤقف پر قائم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے دفاعی نظام اور امریکی سکیورٹی مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئندہ انتخابات اور اندرونی دباؤ کے باعث یہ مسئلہ امریکی ڈیموکریٹک سیاست میں مزید اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔














