امریکا کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کے خاتمے کے لیے جدید ڈرون ٹیکنالوجی پر غور

سمندری راستے کی حفاظت کے لیے روبوٹس، ہیلی کاپٹرز اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کا امکان ہے، رپورٹ
شائع 16 اپريل 2026 07:46pm

امریکا نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس منصوبے میں ڈرونز، روبوٹس اور سونار سسٹمز کے ذریعے خطرناک علاقوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کے خاتمے کے لیے غور کرنا شراع کر دیا ہے، جس کے لیے جدید ٹیکنالوجی بشمول ڈرونز، خودکار روبوٹس اور ہیلی کاپٹرز کے استعمال پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ انسانی جانوں کو خطرے سے بچایا جا سکے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس نوعیت کا آپریشن انتہائی پیچیدہ اور سست رفتار ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی بحریہ روایتی مائن سویپنگ جہازوں کے بجائے اب جدید چھوٹے جہازوں، نیم خودکار زیرِ آب اور سطحی ڈرونز اور ریموٹ کنٹرول روبوٹس پر انحصار کر رہی ہے، جن کے ذریعے بارودی سرنگوں کی نشاندہی، شناخت اور انہیں ناکارہ بنانے کا عمل انجام دیا جاتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق آپریشن کے دوران ڈرونز اور سینسرز کے ذریعے مشکوک اشیاء کی نشاندہی کی جاتی ہے، جس کے بعد کنٹرول رومز سے انہیں غیر مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات آرچر فش جیسے خودکش روبوٹک نظام بھی استعمال کیے جاتے ہیں جو دھماکا خیز مواد لے کر بارودی سرنگ کو تباہ کرتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائی تھیں، جن کے بارے میں درست مقام واضح نہیں ہے۔ اس کے برعکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ْٹروتھ سوشل‘ پر دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے مائن بچھانے والے تمام جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں۔ تاہم رپورٹ کے مطابق مزید خطرات اب بھی موجود ہیں۔

امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے بھی کہا تھا کہ امریکی جہازوں یو ایس ایس فرینک ای پیٹرسن اور مائیکل مرفی نے آبی گزرگاہ کی حفاظت کے لیے آپریشن کیا تھا جس پر ایرانی فوج کے کمانڈ مرکز خاتم الانبیاء کے ترجمان نے امریکی دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا دعویٰ درست نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بارودی سرنگیں انتہائی سستی مگر انتہائی مؤثر ہتھیار ہیں، جو تجارتی بحری راستوں کو مکمل طور پر بند کر سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے صرف ان کی موجودگی کا خدشہ ہی بحری نقل و حمل کو متاثر کر دیتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے باوجود آبنائے ہرمز جیسے اہم اور حساس آبی راستے کو صاف کرنا ایک مشکل، وقت طلب اور خطرناک عمل ہوگا، جو کئی ہفتے بھی لے سکتا ہے، جب کہ ایرانی حملوں یا ممکنہ خطرات کی صورت میں بھی یہ عمل مزید سست ہو سکتا ہے۔

امریکی بحریہ کے حکام نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بارودی سرنگوں کو تلاش کرنا اور ختم کرنا ایک وقت طلب اور خطرناک عمل ہے۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں مصنوعی ذہانت اور مکمل خودکار نظاموں کے ذریعے بارودی سرنگوں کی تلاش اور صفائی کو مزید تیز اور محفوظ بنانے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم فی الحال یہ عمل انسانی نگرانی اور پیچیدہ ٹیکنالوجی کے امتزاج پر ہی منحصر ہے۔