پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر کا قرض واپس کردیا

یو اے ای کو قرض کی مکمل ادائیگی کے باوجود ملکی ڈالر ذخائر پر فرق نہیں پڑے گا: اسٹیٹ بینک
اپ ڈیٹ 18 اپريل 2026 08:02pm

پاکستان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو 2 ارب ڈالر قرض واپس کر دیا ہے، جس کی تصدیق اسٹیٹ بینک کی جانب سے کر دی گئی ہے۔

ہفتے کو اسٹیٹ بینک نے پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر ادائیگی کی تصدیق کردی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کو 23 اپریل کو یو اے ای کو مزید ڈیڑھ ارب ڈالر کی ادائیگی بھی کرنا ہے۔

اس حوالے سے اسٹیٹ بینک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یو اے ای کو قرض کی مکمل ادائیگی کے باوجود ملکی ڈالر ذخائر پر فرق نہیں پڑے گا، بیرونی ادائیگی کا انتظام موجود ہے۔

اذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں موجودہ بین الاقوامی صورت حال کے پیش نظر یو اے ای نے رقم کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا تھا، جس پر پاکستان نے قرض واپسی کا فیصلہ کیا۔

ذرائع وزارت خزانہ نے بتایاکہ پاکستان اس رقم پر 6 فیصد کی شرح سے سود ادا کررہا تھا، یواے ای اس رقم کو پہلے سالانہ بنیاد پر رول اوور کررہاتھا، دسمبر 2025 میں یہ رقم ایک مہینے کے لیے اور پھر 2 مہینے کے لیے رول اوور کی گئی۔

یاد رہے کہ پاکستان نے گذشتہ ہفتے اپنی عالمی ادائیگیاں وقت پر کیں اور بروقت وصولیوں سے زرمبادلہ ذخائر پر زیادہ اثر بھی نہیں ہونے دیا۔

پاکستان نے تقریباً ڈیرھ ارب کے یورو بانڈ اور میچور ہوئے 2 ارب ڈالر ڈپازٹس کی ادائیگی کی، 50 کروڑ کے یورو بانڈ بیچے اور سعودی عرب کا 2 ارب ڈالر کا ڈپازٹ وصول کیا۔

واضح رہے کہ پاکستان گزشتہ کچھ عرصے سے بیرونی مالی معاونت اور دوست ممالک کی ڈپازٹس پر انحصار کرتا رہا ہے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھا جا سکے اور درآمدات و بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ کم ہو سکے۔

متحدہ عرب امارات نے بھی ماضی میں پاکستان کو اسٹیٹ بینک کے ذخائر مضبوط رکھنے کے لیے اربوں ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی تھی جو عموماً ڈپازٹ یا قلیل مدتی مالی سہولت کی صورت میں ہوتی ہے، اب 2 ارب ڈالر کی واپسی اسی مالی انتظامی ڈھانچے کا حصہ ہے، جس میں پاکستان مقررہ مدت پوری ہونے پر دوست ممالک کو ان کی رقوم واپس کرتا ہے۔

اس طرح کی ادائیگیاں اکثر رول اوور یا نئے معاہدوں کی صورت میں بھی ایڈجسٹ کی جاتی ہیں تاہم موجودہ خبر کے مطابق یہ ادائیگی مکمل طور پر واپس کی گئی ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی ادائیگیوں کا مقصد مالی ذمہ داریوں کی بروقت تکمیل اور عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کے ساتھ اعتماد برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ ایسی ادائیگیوں کے باوجود زرمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے دیگر ذرائع اور انتظامات موجود ہیں۔

یہ معاملہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کے وسیع تر شیڈول کا حصہ ہے، جس میں آنے والے مہینوں میں مزید مالی ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔