اسرائیل-لبنان براہِ راست مذاکرات کا دوسرا دور جمعرات کو واشنگٹن میں طے

مذاکرات کی تصدیق اسرائیلی اور امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے کی ہے، سی این این
شائع 20 اپريل 2026 09:52pm

اسرائیل اور لبنان کے درمیان دہائیوں بعد براہِ راست سفارتی رابطوں کا سلسلہ آگے بڑھ رہا ہے اور اس پیش رفت کے تحت دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جمعرات کو واشنگٹن میں منعقد ہوگا۔

امریکی خبر رساں ادارے ’سی این این‘ کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا دوسرا دور جمعرات کو واشنگٹن میں منعقد ہوگا، جس کی تصدیق ایک اسرائیلی عہدیدار اور امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان پہلا باضابطہ اجلاس گزشتہ منگل کو ہوا تھا، جس میں اسرائیلی سفیر یخیئل لیٹر اور لبنانی سفیر ندا حمادے نے شرکت کی تھی۔ اس بار بھی اسرائیلی وفد کی قیادت یخیئل لیٹر کریں گے، جب کہ لبنانی وفد کی قیادت سفیر سائمن کرم کریں گے۔

لبنانی صدر کے دفتر کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد تنازع پر مبنی کارروائیوں کا خاتمہ، جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلا اور بین الاقوامی سرحدوں کے مطابق لبنانی فوج کی تعیناتی ہے۔

لبنانی صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے لیے اسرائیل پر اثر و رسوخ استعمال کیا اور مذاکراتی عمل کے آغاز کی راہ ہموار کی۔

ادھر امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق واشنگٹن 14 اپریل سے شروع ہونے والے مثبت مذاکراتی عمل کا خیرمقدم کرتا ہے اور دونوں حکومتوں کے درمیان براہِ راست اور سنجیدہ بات چیت کو سہولت فراہم کرتا رہے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ مذاکرات سے قبل اسرائیل اور لبنان کے درمیان دہائیوں سے کوئی باضابطہ سفارتی تعلقات یا براہِ راست رابطہ موجود نہیں تھا۔

دوسری جانب 10 روزہ جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی حملے کیے گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایک ڈرون نے ققعیۃ الجسرکے علاقے میں دریائے لیتانی کے قریب حملہ کیا، تاہم فوری طور پر جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

اسی دوران شمعا قصبے میں بمباری کی اطلاع سامنے آئی، جب کہ مرجعیون سے موصول اطلاعات کے مطابق طیبہ اور القُصیر و القنطرہ کے درمیان علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔