امریکا کا چین پر اے آئی ٹیکنالوجی کی چوری اور صنعتی جاسوسی کا الزام
امریکی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ غیر ملکی عناصر، خصوصاً چین میں موجود ادارے، ہزاروں جعلی اور پراکسی اکاؤنٹس کے ذریعے سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کر کے امریکی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز تک رسائی اور ان سے حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی صدر کے معاون اور وائٹ ہاؤس کے آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کے ڈائریکٹرمائیکل کراٹسیوس کی جانب سے جاری ایک سرکاری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ غیر ملکی عناصر، بالخصوص چین میں موجود ادارے، امریکی مصنوعی ذہانت کے جدید نظاموں کو حاصل کرنے کے لیے منظم اور بڑے پیمانے پر کوششیں کر رہے ہیں۔
دستاویز کے مطابق یہ ادارے ہزاروں جعلی اور پراکسی اکاؤنٹس کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں داخل ہونے اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان طریقوں کے ذریعے وہ امریکی اے آئی ماڈلز سے حساس اور اہم معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمیاں منظم مہم کی صورت میں کی جا رہی ہیں، جن کا مقصد امریکی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں اور تحقیقاتی برتری سے فائدہ اٹھانا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی قیادت رکھتا ہے، جو دہائیوں پر محیط تحقیق، نجی سرمایہ کاری اور اختراعات کا نتیجہ ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے معیشت، سلامتی اور سائنسی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکی حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں آزاد اور مسابقتی ترقی کی حمایت جاری رکھے گی، تاہم اس کے ساتھ ساتھ اپنی ٹیکنالوجی اور تحقیق کے تحفظ کے لیے اقدامات بھی کرے گی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اہم سسٹمز کا تحفظ انتہائی ضروری ہے تاکہ ان کی درستی، قابلِ اعتماد کارکردگی اور سیکیورٹی برقرار رکھی جا سکے۔













